تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 696
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جون 1939ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول تعالیٰ نے آپ کی مشکلات کو دیکھ کر اس رنگ میں آپ کی مددفرما دی۔میں نے اپنا ایک واقعہ بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ ایک دفعہ میں سفر پر تھا اور کسی روحانی تحریک کے ماتحت جس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں، میں نے خیال کیا کہ یہاں ایک روپیہ مجھے ملے۔ہم لوگ چلے جا رہے تھے اور بعض احمدی میرے ساتھ تھے۔سامنے ایک گاؤں تھا اور کچھ لوگ کھڑے نظر آ رہے تھے۔میرے ساتھیوں نے بتایا کہ اس گاؤں کا نمبر دار شدید مخالف ہے اور وہی اپنے ساتھیوں سمیت کھڑا ہے۔یہ لوگ احمدیوں کو مارتے ہیں۔حتی کہ اپنے گاؤں میں سے کسی احمدی کو گزرنے بھی نہیں دیتے۔میرے بعض ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ گاؤں کے باہر باہر چلنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ کوئی گالی گلوچ کریں۔ابھی یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ گاؤں نزدیک آ گیا۔جب میں اس نمبردار کے مکان کے قریب پہنچا تو وہ دوڑ کر آگے آیا اور ایک روپیہ پیش کیا۔پہلے اللہ تعالیٰ نے جماعت کو سبق دلانے کے لئے ایک بات میرے دل میں پیدا کی اور اپنی محبت کا تجربہ کرانے کے لئے میرے منہ سے سوال کرا دیا کہ روپیہ ملے اور دوسری طرف جماعت کے دوستوں کو اس کا احساس کرایا کہ یہ دشمنوں کا گاؤں ہے اور پھر اس نشان کو اسی گاؤں کے سب سے بڑے مخالف کے ذریعہ پورا کرا دیا۔یہ خدا تعالیٰ کا ایک نشان تھا اور اس نے بتایا کہ ہم جب چاہیں اور جہاں سے چاہیں دلوا سکتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں جب آپ باغ میں فروکش تھے۔ایک دفعہ آپ نے جبکہ میں بھی پاس تھا، والدہ صاحبہ سے فرمایا کہ آج کل مالی تنگی بہت ہے لنگر خانہ کا خرچ بہت زیادہ ہو رہا ہے، میرا خیال ہے کہ بعض دوستوں سے قرض لیا جائے۔اسی روز جب آپ ظہر یا جمعہ کی نماز کے لئے باہر گئے اور پھر نماز کے بعد واپس تشریف لائے تو فرمایا کہ ایک غریب آدمی جس کے کپڑے بھی پھٹے ہوئے تھے اس نے میرے ہاتھ میں ایک پوٹلی دی تھی ، اس کے کپڑے اتنے پھٹے ہوئے اور بوسیدہ تھے کہ میں نے سمجھا اس پوٹلی میں چند پیسے ہوں گے۔لیکن دراصل اس میں سوا دو سو روپے تھے۔آپ نے فرمایا کہ ابھی میرے دل میں قرضہ لینے کا خیال تھا مگر خدا تعالیٰ نے خود ہی ضرورت کو پورا کر دیا۔تو بعض اوقات اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی بندوں کی ضرورتوں کے لئے روپیہ مہیا کر دیتا ہے۔چند سال ہوئے مجھے ایک مکان کی تعمیر کے لئے روپیہ کی ضرورت پیش آئی۔میں نے اندازہ کرایا تو مکان کے لئے اور اس وقت کی بعض اور ضروریات کے لئے دس ہزار روپیہ درکار تھا۔میں نے خیال کیا کہ جائیداد کا کوئی حصہ بیچ دوں یا کسی سے قرض لوں۔اتنے میں ایک دوست کی چٹھی آئی کہ میں چھ ہزار روپیہ بھیجتا ہوں اس کے بعد چار ہزار باقی رہ گیا۔ایک تحصیلدار دوست نے لکھا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ 696