تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 694
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جوان 1939ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ہیں ، ماں کو بیٹے سے اور بیٹے کو ماں سے، بیوی کو خاوند سے، خاوند کو بیوی سے، بھائی کو بھائی سے اور بہن کو بہن سے کسی مدد کی امید نہیں ہو سکتی وہاں کس طرح کام چلے گا ؟ جب ہر انسان خوف سے لرز رہا ہوگا۔وہ وقت ایسا ہو گا جب کوئی کسی کا ساتھ نہ دے گا۔اس وقت انسان کہے گا کہ کاش! کوئی چیز میرے خزانہ میں ہوتی اور آج میرے کام آتی۔جب انسان ترساں ولرزاں ہوگا، گھبرایا ہوا ہو گا، ایسے وقت میں اگر خدا تعالیٰ کے فرشتے آکر کسی سے کہیں کہ یہ زاد راہ تمہارے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے تو یہ انعام زیادہ ہے یا یہ کہ یہاں دین کی راہ میں خرچ کئے ہوئے مال کے بدلہ میں ایک ایک کے ستر ستر مل جائیں؟ ہماری جماعت کے جولوگ چندہ دیتے ہیں۔اس کی اوسط تین روپے فی کس بنتی ہے جسے ستر سے ضرب دی جائے تو دو سو دس روپیہ سال کے ہوتے ہیں اور سترہ روپیہ چند آنے ماہوار ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی بڑا مال نہیں۔بمبئی اور کلکتہ میں ایسے ایسے ہندوستانی موجود ہیں جو لاکھ لاکھ اور دو دو لاکھ روپیہ ماہوار کماتے ہیں۔حالانکہ ہندوستان ایک گرا ہوا ملک ہے اس کے مقابلہ میں سترہ روپیہ کی حیثیت ہی کیا ہے؟ لیکن اگر اس معمولی سی رقم کی بجائے وہ چیز مل جائے کہ جس کی قیمت کا اندازہ ہی نہیں ہوسکتا اور ایسی تکلیف کے وقت میں ملے جب ہر شخص ایک مصیبت میں مبتلا ہو گا اور کہے گا کہ کاش میری دولت کا چوتھا حصہ لے لیا جائے گا، کاش نصف لے لیا جائے بلکہ ساری دولت میری لے لی جائے اور اس انعام میں سے مجھے کچھ حصہ مل جائے۔تو غور کرو یہ کتنا بڑا انعام ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے روز کافر کہیں گے کہ کاش ہماری ساری دولت لے لی جائے اور ہمیں کوئی ثواب بے شک نہ ملے مگر اس عذاب سے نجات مل جائے اور جن لوگوں کو ایک معمولی سی قربانی کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کا وعدہ ہے وہ اگر اس پر اس دنیا کے معمولی نفع کو ترجیح دیں تو ان کی نادانی میں کیا شک ہے مگر کئی ایسے نادان ہیں جو معمولی سی قربانی کرنے کے بعد چاہتے ہیں کہ اسی دنیا میں ان کو نفع پہنچے اور جب نہیں پہنچتا تو سمجھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ دھو کہ ہوا، ہم سے قربانی کرائی گئی مگر بدلہ کوئی نہیں ملا۔ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ استاد نے مجھ سے چار روپیہ فیس تو لے لی مگر اس کے عوض مجھے دیا کچھ نہیں اور یہ نہیں سمجھتا کہ اس نے جو علم سکھایا ہے وہ چار کروڑ روپیہ سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔جو طالب علم فیس کے بدلہ میں امید رکھتا ہے کہ اسے استاد کی طرف سے روپیہ ملے گا، وہ کبھی خوش نہیں ہوسکتا اور اطمینان حاصل نہیں کر سکتا لیکن یہ سمجھتا ہے کہ اس فیس کے بدلہ میں جو روپے ملتے ہیں وہ جیب میں نہیں بلکہ دل میں ڈالے جاتے ہیں، وہ شوق سے علم حاصل کرتا ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ دنیا میں جو نفع حاصل ہوتا ہے وہ اس نفع کے جویہ 694