تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 693
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 30 جون 1939ء ہے؟ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی شخص سے کہا جائے کہ تمہیں اس پڑاؤ پر آرام مل سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب تم منزل مقصود پر پہنچ جاؤ تو تمہارے اور تمہارے بیوی بچوں کے لئے عمر بھر کے واسطے آرام کا انتظام ہو جائے۔ان دونوں میں سے تمہیں کون سا آرام پسند ہے؟ تو ہر معقول انسان منزل پر پہنچ کر عمر بھر کے آرام کو ترجیح دے گا اور جب انسان کو ایک ایسی زندگی کے دور سے گزرنا ہے جس کے متعلق قرآن کریم نے خالداً اور ابداً کے الفاظ استعمال کئے ہیں تو ایسی ابدی اور خلود کی زندگی کے آرام پر اس چند روزہ زندگی کے آرام کو ترجیح دینا نا دانی نہیں تو اور کیا ہے مگر پھر بھی بعض نادان قربانی کرنے کے بعد یہ امید رکھتے ہیں کہ انہیں اسی زندگی میں مالی صورت میں نفع ملے اور جب وہ اس سے محروم رہتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ثواب کہ کاموں سے بھی محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ ایسی چیز کو بدلہ قرار دیتے ہیں جو دراصل بدلہ نہیں ہوتا۔حقیقت یہی ہے کہ اگر کسی عاقل کے سامنے یہ بات رکھی جائے کہ وہ اس چند روزہ زندگی کے بدلہ کو پسند کرتا ہے یا آخرت کے غیر محدود انعامات کو؟ تو وہ ضرور آخرت کے انعامات کو ترجیح دے گا۔جو لوگ اس دنیا کے بدلہ کو ترجیح دیتے ہیں ان کی مثال عقل کے معاملہ میں اس میراثی کی ہے جو کسی واعظ کا وعظ سننے چلا گیا۔واعظ یہ کہہ رہا تھا کہ نماز پڑھنی چاہئے۔اس نے یہ بات سنی تو واعظ سے کہا کہ آپ نے وعظ تو بڑا کیا ہے مگر یہ تو بتاؤ کہ اگر نماز پڑھیں تو کیا ملے گا ؟ واعظ کو جلدی میں اور تو کوئی جواب نہ سوجھا اس نے کہہ دیا کہ نماز پڑھنے سے نور ملتا ہے۔اس پر اس نے نماز شروع کر دی اور چار نماز میں پڑھیں۔صبح کی نماز کے وقت سردی بہت تھی اس نے سوچا کہ واعظ نے کوئی تیم کا مسئلہ بھی بیان کیا تھا۔سو اس وقت میں تیم کر کے ہی نماز پڑھ لیتا ہوں۔اس نے تمیم کے لئے ہاتھ مارا تو اتفاقاً اس کے ہاتھ توے پر پڑے اور اس نے وہی منہ اور ہاتھ پر پھیر لئے اور یہ پانچ نمازیں پڑھنے کے بعد اس نے خیال کیا کہ اب مجھے نور مل گیا ہوگا۔ذرا روشنی ہوئی تو اس نے اپنی بیوی کو جگایا اور کہا کہ دیکھو کوئی نور آیا ہے یا نہیں ؟ بیوی نے اس کے چہرے کو دیکھا تو کہا یہ تو میں جانتی نہیں کہ نور کیا ہوتا ہے۔ہاں اگر وہ کوئی کالی کالی چیز ہوتی ہے تو پھر تو بہت ہے۔میراثی نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا تو وہ چونکہ براہ راست توے پر پڑے تھے اس لئے وہ بہت زیادہ سیاہ تھے۔اس نے کہا کہ اگر تو نور کالا ہی ہوتا ہے تو پھر تو گھٹا ئیں باندھ کر آیا ہے۔یہی مثال ان لوگوں کی ہوتی ہے جو خدا کی راہ میں قربانی کر کے اسی دنیا میں بدلہ کے منتظر رہتے ہیں۔وہ پانچ نمازیں پڑھنے کے بعد توقع رکھتے ہیں کہ ان کے چہرہ پر نور کے آثار ظاہر ہوں اور یہ خیال نہیں کرتے کہ اس دنیا میں تو کسی نہ کسی طرح گزارہ ہو ہی جاتا ہے مگر وہ غیر محدود زندگی جہاں تمام رشتے ناطے ٹوٹ جاتے 693