تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 608
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول نسبت جماعت احمدیہ کے نمائندہ کو ووٹ زیادہ ملے ہیں۔ایسے بین اور کھلے نتیجہ کو کوئی کہاں چھپا سکتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے پہلے دور میں ہمیں زمین صاف کرنے کا موقعہ دیا اور ادھر تو حکام پر حقیقت کھل گئی اور ادھر پبلک پر حقیقت کھل گئی اور ہمیں جو خدشہ تھا کہ جماعت کی سبکی اور بدنامی نہ ہو، وہ جاتا رہا۔دوسری طرف ہمیں حکومت کے بعض افسروں سے اختلاف پیدا ہو گیا تھا۔ہمیں ان پر بھی غصہ تھا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ تم باغی ہو اور حکومت کا تختہ الٹنے والے ہو۔حالانکہ ہم ایسے نہیں۔ہم نے اس الزام کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے رنگ میں غلط ثابت کیا کہ گورنمنٹ کو تقریراً اور تحریر التسلیم کرنا پڑا کہ ہم جماعت پر ایسا کوئی الزام نہیں لگاتے اور یہ کہ اس نوٹس سے جو اس نے دیا، یہ مراد ہر گز نہیں تھی کہ حکومت کے نزدیک جماعت احمدیہ نے سول نافرمانی یا کسی خلاف امن فعل کے ارتکاب کا ارادہ کیا ہے۔چنانچہ حکومت پنجاب کی چٹھیوں کے علاوہ جب نائب وزیر ہند کے پاس شکایت کرتے ہوئے انہیں اس معاملہ کی طرف توجہ دلائی گئی تو انہوں نے ایک خط کے ذریعہ اطلاع دی کہ حکومت ہند کی طرف سے انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ حکومت پنجاب اور اس کے افسروں نے اس معاملہ میں جو کچھ بھی کیا ہے اس کے کرتے وقت ان کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ خیال نہ تھا کہ وہ کوئی ایسا کام کریں جس سے جماعت احمدیہ کے جذبات کو ، جس کی وفاداری پورے طور پر مسلم ہے، کسی طرح تھیں لگے۔حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ پہلے انہوں نے ہم پر بغاوت اور سول نافرمانی کا الزام لگایا تھا۔پھر ایک واقعہ ایسا ہے جسے گورنمنٹ کسی صورت میں بھی چھپا نہیں سکتی۔میں نے کئی انگریز افسروں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ واقعہ ان کے سامنے رکھا ہے اور انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ بعض حکام سے اس بارہ میں کوئی نہ کوئی غلطی ضرور ہوئی ہے۔گویا وہ ایک ایسی واضح غلطی ہے جس کو تسلیم کئے بغیر گورنمنٹ کے افسروں کیلئے کوئی چارہ ہی نہیں اور وہ یہ کہ گورنمنٹ کے کسی افسر نے ایک دفعہ ایک خفیہ سرکلر جاری کیا جو غالباً کئی ضلعوں کے ڈپٹی کمشنروں کے نام بھیجا گیا تھا کہ جماعت احمدیہ کی حالت گورنمنٹ کی نگاہ میں مشتبہ ہے اس لئے اس کے افراد کا خیال رکھنا چاہئے۔اب یہ ذراحد سے نکل چلے ہیں اور ان کے خیالات باغیانہ ہو گئے ہیں۔یہ سرکر تمام ضلعوں کے ڈپٹی کمشنروں یا بعض اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو بھیجا گیا اور ہمیں بھی کسی طرح اس چٹھی کا پتہ لگ گیا۔ہم نے جب گورنمنٹ سے اس چٹھی کے متعلق دریافت کیا تو اس نے بالکل انکار کر دیا اور کہا کہ ایسی کوئی چٹھی نہیں بھیجی گئی۔حالانکہ ہمیں خبر دینے والے نے بتایا تھا کہ یہ معتبر خبر ہے۔جب مجھے اس کا علم ہوا تو میں نے اس وقت کی گورنمنٹ کو اس طرف توجہ دلائی۔اس وقت تک 608