تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 607
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1938ء عنہ حکومت کرتے تھے کہاں ہے؟ وہ حکومت جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حاصل تھی وہ کہاں ہے؟ وہ شوکت اور وہ عظمت جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حاصل تھی وہ کہاں ہے؟ وہ دبدبہ اور وہ رعب جو صحابہ رضی اللہ عنہم کو حاصل تھا وہ اب کہاں ہے؟ وہ ملک چلے گئے ،حکومت جاتی رہی مگر جو چیز آج بھی موجود ہے وہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ کا سرٹیفیکیٹ ہے۔وو بعض لوگ حکمتوں کو نہیں سمجھتے اور چونکہ ان کے دماغ چھوٹے ہوتے ہیں اس لئے وہ بعض دفعہ کسی روپیہ کے خرچ کئے جانے پر اعتراض کر دیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اس کے نتیجہ میں جماعت کی عزت کس قدر قائم ہو گئی۔اب جو چیز میرے سامنے تھی وہ یہ تھی کہ قادیان کے متعلق دشمن نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ ہم نے اسے فتح کر لیا ہے اور احمدیوں کو بالکل کچل کر رکھ دیا گیا ہے۔یہاں بیٹھے ہوئے ایک شخص اس اعتراض کو معمولی خیال کرتا ہے مگر سارے ہندوستان کو مد نظر رکھتے ہوئے ، بنگال، بمبئی، مدراس، یوپی، بہار، سندھ صوبہ سرحدی میں جو احراری پرو پیگنڈا جماعت احمدیہ کی موت کی نسبت کیا جا رہا تھا، وہ ہماری تبلیغ کے راستہ میں بہت بڑی روک بن رہا تھا بلکہ دور کیوں جاؤ خود پنجاب کے دوسرے علاقوں میں یہ بُرا اثر پیدا کر رہا تھا اور لوگ خیال کرنے لگے تھے کہ شاید یہ لوگ سچ ہی کہہ رہے ہیں اور اب احمد یہ جماعت ختم ہو رہی ہے اور اس اثر کا دور کرنا نہایت ضروری تھا۔پس میں نے چاہا کہ اس علاقہ میں احرار کا ممبری کیلئے کھڑا ہونا ایک خدا تعالیٰ کا پیدا کردہ موقعہ ہے جسے ضائع نہیں ہونے دینا چاہئے اور ہمیں چاہئے کہ ہم اس موقعہ پر دنیا کو بتادیں کہ اس علاقہ میں ہماری طاقت با وجود اقلیت ہونے کے ان سے زیادہ ہے اور اس خیال سے میں نے احمدی امیدوار، باوجود ہمارے بعض دوستوں کے اصرار کے کہ ایسانہ کیا جائے، کھڑا کیا اور یہی جواب دیا کہ اس وقت ہمارے لئے یہ ایک اصولی سوال ہے اور ہم اس ذریعہ سے احرار کے جھوٹے پروپیگنڈا کو باطل ثابت کرنا چاہتے ہیں۔اس لئے باوجود آپ لوگوں کے اصرار کے ہم اپنے آدمی کو نہیں بٹھا سکتے۔چنانچہ جب الیکشن کا نتیجہ نکلا تو بے شک اہل السنت و الجماعت کا ایک نمائندہ کامیاب ہو گیا مگر دوسرے نمبر پر احمدی نمائندہ تھا، تیسرے نمبر پر احراری اور چوتھے نمبر پر دوسراسنی۔اب اس نتیجہ کو احرار کہاں چھپا سکتے تھے؟ یہ پبلک کی آواز تھی جو ووٹوں کے ذریعہ ظاہر ہوئی اور اس نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ یہ کہنا کہ احد یوں کو قادیان کے علاقہ میں کچل دیا گیا ہے، بالکل بے معنی دعوی ہے حقیقت اس میں کچھ نہیں۔پس اس نتیجہ نے احرار کی آواز کو بالکل مدھم کر دیا اور اس کے بعد قادیان کی فتح کا نقارہ بجتے کم از کم میں نے کبھی نہیں سنا۔اس لئے کہ یہ نتیجہ سرکاری افسروں کے سامنے نکلا اور انہوں نے بھی دیکھ لیا کہ احرار کی 607