تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 609

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 18 نومبر 1938ء تحریک جدید- ایک ابھی تحریک۔۔۔جلد اول موجودہ حکومت کا زمانہ نہ آیا تھا، گورنمنٹ نے ایسے سرکلر سے لاعلمی ظاہر کی اور بالکل ممکن تھا کہ ہم اپنی اطلاع کو کسی غلط فہمی کا نتیجہ قرار دیتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا تازہ بتازہ ثبوت بہم پہنچا دیا اور وہ اس طرح کہ ادھر گورنمنٹ نے انکار کیا کہ ہم نے کوئی ایسی چٹھی نہیں بھیجی اور ادھر راولپنڈی کا ایک ہیڈ کانسٹیبل جلسہ سالانہ یا مجلس شوری کے موقعہ پر ، اس وقت مجھے یاد نہیں رہا ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں میں گیا اور اس نے احمدیوں سے کہا کہ تم مجھے اپنے نام لکھاؤ تم میں سے کون کون قادیان جائے گا۔کیونکہ سرکاری حکم آیا ہے کہ احمدیوں کی نگرانی رکھو۔غرض اس نے وہاں کے احمدیوں سے اقرار لیا کہ وہ اس موقعہ پر بغیر پولیس کو اطلاع کے نہیں جائیں گے۔جب انہوں نے اس بات کی اطلاع ہمیں دی تو ہماری طرف سے مقامی کارکنوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس واقعہ کی تحقیق کریں اور افسران بالا سے مل کر معلوم کریں کہ اصل بات کیا ہے جب انہوں نے تحقیق کی اور وہ افسران بالا سے ملے تو پولیس کے افسروں نے انہیں یہ جواب دیا کہ اصل بات یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے ایک خفیہ چٹھی آئی تھی کہ اس امر کی نگرانی رکھی جائے مگر اس ہیڈ کانسٹیبل نے شراب پی ہوئی تھی جس کے نشہ میں اس نے بات کہ دی اور بجائے مخفی رکھنے کے اس نے خود احمدیوں سے اس کا ذکر کر دیا ورنہ ہمیں تو مخفی حکم ملا تھا اور اب بہتر ہے کہ آپ اس معاملہ کو دبا دیں اور زیادہ شور نہ کریں کیونکہ ہماری بدنامی ہوتی ہے اور اگر یہ راز کھلا تو اس ہیڈ کانسٹیبل کی شامت آ جائے گی۔اب یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس کا گورنمنٹ انکار کر ہی نہیں سکتی تھی اور انہیں تسلیم کرنا پڑا کہ کوئی غلط نہیں اس ایک ایسا نہیں تھی اور ملا لیں اس بارہ میں ہوگئی ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ غلط فہمی ہو کس طرح گئی؟ اگر گورنمنٹ یا گورنمنٹ کے کسی ذمہ دار افسر کا کوئی آرڈر نہیں تھا تو یہ کس طرح ممکن ہو گیا کہ راولپنڈی کے ایک ہیڈ کانسٹیبل نے ایک دور دراز کے گاؤں میں جا کر احمدیوں کے نام لکھنے شروع کر دیئے اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ بغیر پولیس میں اطلاع دیے تم قادیان نہیں جاسکتے مگر خیر ہم کو ان بحثوں سے غرض نہیں۔حکومت پنجاب نے علی الاعلان تسلیم کیا کہ وہ کوئی ایسا الزام جماعت احمدیہ پر نہیں لگاتی اور بالا گورنمنٹ نے بھی یقین دلایا کہ جماعت احمدیہ کی وفاداری اس کے نزدیک مسلم ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حکومت کے مقابلہ میں بھی ہمیں فتح دی۔گومخالفت کا سلسلہ ابھی تک اندرونی طور پر افسروں میں جاری ہے۔کیونکہ حکومت میں یہ مرض ہے کہ اس کا ایک معمولی سے معمولی افسر بھی کوئی بات کہہ دے تو وہ اسے بیچ تسلیم کرلے گی اور یہ گورنمنٹ کے تنزل اور بعض دفعہ اس کے لئے ندامت کے موجبات میں سے ایک بہت بڑا موجب۔پہلے وہ دھڑلے سے ہماری جماعت کو دبانے کیلئے تیار ہو جاتے تھے مگر اب وہ سوچ وو 609