تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 598

اقتباس از خطبه جمعه فرمود : 11 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول عورتوں نے دیانتداری سے لباس میں سادگی پیدا کرنے کے حکم پر عمل کیا۔یہ باتیں انفرادی قربانی اور قومی فتح کا ایک ایسا شاندار نمونہ ہیں جس کی مثال کم ملتی ہے۔یہ قربانی معمولی نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ کی قربانی ہے اور دیکھنے والی آنکھ کیلئے اس میں فتوحات کا لمبا سلسلہ ہے۔پھر کتنے نئے ممالک میں احمدیت روشناس ہوئی۔کم سے کم دس پندرہ ممالک ایسے ہیں۔کئی علاقوں میں گواحدیت پہلے سے تھی مگر تحریک جدید کی جدو جہد کے نتیجہ میں اس کا اثر پہلے سے بہت وسیع ہو گیا ہے۔اس کے علاوہ ایک یہ نتیجہ نکلا کہ اس سے پہلے دنیوی لحاظ سے جماعت کو صرف ایک دستہ فوج سمجھا جاتا تھا اور اس کی حیثیت مسلمانوں کے ایک بازو کی تھی لیکن احرار اور بعض حکام نے ہمارے خلاف جو شورش پیدا کی اس سے ڈر کر سارے مسلمانوں نے ہم کو علیحدہ کر دیا۔خود گورنر پنجاب نے ایک دفعہ چودھری سر ظفر اللہ خان صاحب سے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے مخالف صرف احرار ہیں؟ سب قوموں اور فرقوں کے لوگ میرے پاس آ آ کر آپ کی شکایتیں کرتے ہیں۔ممکن ہے کہ اس میں کچھ مبالغہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ جو لوگ ہمارے مؤید تھے انہوں نے کبھی ان کے سامنے اپنے خیالات ظاہر نہ کئے ہوں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری مخالفت بہت عام ہو گئی تھی۔حتی کہ وہ مسلم لیگ جس کے اجلاس بعض دفعہ نہ ہو سکتے تھے اور وہ مجھ سے روپیہ لے کر اجلاس کرتی تھی اسے بھی زکام ہوا اور اس کی پنجاب کی شاخ نے یہ فیصلہ کر دیا کہ احمدی اس کے ممبر نہیں ہو سکتے۔یہ کفران نعمت کی انتہا تھی لیکن اس کی وجہ یہی تھی کہ اس وقت ہمارے خلاف لوگوں میں اتنا جوش تھا کہ انہوں نے خیال کیا اگر ہم نے احمدیوں کو شامل رکھا تو لوگ ہمیں ووٹ نہیں دیں گے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو سزادی اور پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ کی بھی ایک ہی نشست ہے۔گویا وہ بھی ہمارے برابر ہیں جو یقیناً ہماری فتح ہے۔ہماری جماعت تو مختلف مقامات پر پھیلی ہوئی ہے۔اگر ایک ہی ضلع میں ہوں تو ہم دو ممبران بھی لے سکتے ہیں مگر ہم پھیلے ہوئے ہیں اس لئے ایک ممبر کا حصول بھی ہمارے لئے ناممکن ہے۔پس ایک نشست کا حاصل کر لینا بھی ہماری بہت بڑی فتح ہے۔لیکن ان کا صرف ایک نشست حاصل کرنا ان کی سخت شکست۔بہر حال اس وقت تک ہم مسلمانوں کا ایک حصہ سمجھے جاتے تھے مگر مسلمانوں نے گزشتہ فتنہ سے مرعوب ہو کر ہمیں اسی طرح الگ کرنے کی کوشش کی جس طرح دودھ سے لکھی نکال دی جاتی ہے اور اس طرح ہمیں تن تنہا سب دشمنوں سے لڑنے کا موقعہ ملا او محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم اس لڑائی میں کامیاب ہوئے اور دنیا نے محسوس کر لیا کہ جماعت احمدیہ صرف مسلمانوں کے لشکر کا ایک بازو ہی نہیں بلکہ 598