تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 597
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول تک کھانے ہی کھانے پڑے ہوتے تھے“۔" اقتباس از خطبه جمعه فرموده 11 نومبر 1938ء مگر تحریک جدید کے ماتحت سب نے ایک ہی کھانا کھانا شروع کر دیا اور نہ صرف احمدیوں نے بلکہ بیسیوں بلکہ سینکڑوں غیر احمدیوں نے بھی اس طریق کو اختیار کر لیا۔میری ایک ہمشیرہ شملہ گئی تھیں انہوں نے بتایا کہ وہاں بہت سے رؤسا کی بیویوں نے مانگ مانگ کر تحریک جدید کی کا پیاں لیں اور کہا کہ کھانے کے متعلق ان کی ہدایات بہت اعلیٰ ہیں۔ہم انہیں اپنے گھروں میں رائج کریں گی۔ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ بعض غیر احمدیوں کے ساتھ ایک میس میں شریک تھے۔تحریک جدید کے بعد جب انہوں نے دوسرا کھانا کھانے سے احتراز کیا اور دوسرے ساتھیوں کے پوچھنے پر اس کی وجہ ان کو بتائی تو انہوں نے بھی وعدہ کیا کہ یہ بہت اچھی تحریک ہے ہم بھی آئندہ اس پر عمل کریں گے۔پھر میں نے سینما دیکھنے کی ممانعت کی تھی۔اس بات کو ہمارے زمیندار دوست نہیں سمجھ سکتے کہ شہریوں کے لئے اس ہدایت پر عمل کرنا کتنا مشکل تھا۔شہر والے ہی اسے سمجھ سکتے ہیں۔ان میں سے بعض کے لئے سینما کو چھوڑنا ایسا ہی مشکل تھا جیسے موت قبول کرنا۔جن کو سینما جانے کی عادت ہو جاتی ہے وہ اسے زندگی کا جزو سمجھتے ہیں مگر ادھر میں نے مطالبہ کیا کہ اسے چھوڑ دو اور اُدھر نانوے فیصدی لوگوں نے اسے چھوڑ دیا اور پھر نہایت دیانتداری سے اس عہد کو نبھایا اور عورت مرد سب نے اس پر ایسا عمل کیا کہ جو دنیا کے لئے رشک کا موجب ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس سے لاکھوں روپیہ بچ گیا ہو گا۔سینمادیکھنے والے عموماً روزانہ دیکھتے ہیں۔اگر مہینہ میں دس دن بھی سینما کے شمار کئے جائیں اور صرف چار آنہ والے ٹکٹ کا اندازہ کیا جائے تب بھی سال میں تمیں روپے فی کس کا خرچ ہے اور اگر جماعت کے سینما جانے والوں کی تعداد ایک ہزار بھی جائے تو تمیں ہزار سالانہ کی بچت جماعت کو ہو گئی جور تم کہ چار سال کے حساب سے سوالاکھ بنتی ہے مگر سارے چار آنہ میں ہی دیکھنے والے نہیں ہوتے بعض روپیہ دو روپیہ کا ٹکٹ لیتے ہیں۔پھر اس سے جو وقت بچا اس کی قیمت کا اندازہ کرو۔گھر سے سینما آنے جانے ، تماشہ کا انتظار، خود تماشہ کا وقت، اگر اندازہ لگایا جائے تو تین چار گھنٹہ سے کم نہ ہوتا ہوگا ، یہ وقت بھی بچ گیا۔پھر گھروں میں اس سے امن قائم ہوا۔جو لوگ سینما دیکھنے جاتے تھے ان کی بیویوں کو واپسی تک جا گنا پڑتا ہو گا جس سے بعض اوقات لڑائی بھی ہو جاتی ہوگی۔اب ایسے لوگ جلدی گھر آجاتے ہوں گے اور میاں بیوی کو باہم دُکھ سکھ کی بات چیت کرنے کا موقع مل جاتا ہو گا کسی کی نیند خراب نہیں ہوتی ہوگی۔پس یہ مطالبہ معمولی نہ تھا لیکن جماعت نے ایسے سنا اور پورا کر دیا اور اس سے فوائد بھی حاصل کئے۔اس کے علاوہ کون نہیں جانتا کہ عورت کپڑوں پر مرتی ہے مگر ہزار ہا 597