تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 599
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 11 نومبر 1938ء وہ اپنی منفردانہ حیثیت بھی رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکتی ہے۔پہلے ہماری اس حیثیت سے دنیا واقف نہ تھی۔تحریک جدید کے نتیجہ میں ہی وہ اس سے آشنا ہوئی ہے مگر یہ سب فتوحات جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں حاصل ہوئیں ہمارا مقصد نہیں۔ہمارا مقصد ان سے بہت بالا ہے اور اس میں کامیابی کیلئے ابھی بہت قربانیوں کی ضرورت ہے۔دنیا کا کوئی ملک ایسا نہ ہونا چاہئے جہاں احمدیت قائم نہ ہو۔اس وقت تک جماعت حقیقی طور پر صرف ہندوستان میں ہے اور یہاں اسے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے رنگ میں مضبوطی حاصل ہے کہ اور کہیں نہیں۔ہندوستان سے اتر کر وہ ملک جہاں احمدیت کو ترقی حاصل ہو رہی ہے اور جہاں لوگ اسے سمجھنے اور اسے اپنی عملی زندگی کا جزو بنانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ سماٹرا اور جاوا ہیں۔وہاں سے طالب علم بھی دین سیکھنے کیلئے یہاں آتے رہتے ہیں اور جب تاریخ عالم میں احمدیت کی تاریخ لکھی جائے گی تو ہندوستان کے بعد ان جزائر کا ذکر نمایاں طور پر ہوگا۔تیسرا مقام جہاں احمدیت ترقی کر رہی ہے اور جہاں اسے سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے، عرب ہے جس کے ساتھ فلسطین بھی شامل ہے۔فلسطین میں ایک گاؤں احمد یہ جماعت کا مرکز ہے۔یعنی وہ قریباً سب کا سب احمدی ہو چکا ہے۔اس کے علاوہ احمد کی جماعتیں مصر اور شام میں بھی ہیں۔فلسطین کے جس گاؤں کا میں نے ذکر کیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی جماعت ہے جو عملی طور پر احمدیت کو اپنی زندگی میں داخل کر رہی ہے۔انہوں نے اپنے مدر سے بھی جاری کر رکھے ہیں، لٹریچر بھی شائع کرتے ہیں، روپیہ خرچ کرتے ہیں۔گویا تیسرا ملک عرب ہے جس میں شام اور فلسطین وغیرہ بھی شامل ہیں جو احمدیت کی روح کو اپنے اندر داخل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔پھر تعداد کے لحاظ سے گوا بھی علمی لحاظ سے نہیں مغربی افریقہ کو بھی نمایاں مقام حاصل ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہاں اس وقت تک پچاس ساٹھ ہزار احمدی ہو چکا ہے اور احمدیت وہاں وسیع طور پر پھیل رہی ہے اور یہ صرف ہمارے مبلغین کے ذریعہ نہیں بلکہ خودان میں سے جولوگ احمدی ہوتے ہیں وہ آگے جا کر دوسروں کو تبلیغ کرتے ہیں۔ان لوگوں میں تعلیم بہت کم ہے اور ایسے لوگوں کو ٹھو کر بھی لگ سکتی ہے۔بعض کو دوسرے لوگ دھو کہ بھی دے سکتے ہیں مگر باوجود تعلیم کی کمی کے وہ لوگ بہت کام کر رہے ہیں۔ان کے مدر سے جاری ہیں، اشتہارات شائع ہوتے ہیں، کئی نوجوان اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں، کئی ایسے ہیں جنہوں نے چھ چھ ماہ تبلیغ کے لئے وقف کئے اور سینکڑوں میلوں کے پیدل سفر کر کے تبلیغ کیلئے گئے اور نئی جماعتیں قائم کیں۔ہندوستان میں بیٹھے ہوئے لوگ یہ اندازہ نہیں کر سکتے کہ غیر ممالک میں کیا کام ہورہا ہے؟ یہاں تو بعض لوگ احمد یہ جماعتیں قادیان ہنگل اور بھینی 599