تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 586

اقتباس از خطبه جمعه فرمود : 11 نومبر 1938ء نہیں پہنچا سکتا۔تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول پس آج میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو گزشتہ خطبہ کے سلسلہ میں ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپر د عظیم الشان امانت کی ہے۔ایسی عظیم الشان کہ جو بہت ہی کم لوگوں کو دی گئی ہے۔وہ امانت صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے آپ کو احمدی کہہ لیتے ہیں یا وفات مسیح علیہ السلام وغیرہ چند عقائد کو تسلیم کر لیتے ہیں۔یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کھنڈروں کو گرانا۔حیات مسیح کا عقیدہ در اصل ایک کھنڈر تھا جو اسلامی زمین پر موجود تھا اور وفات مسیح کو تسلیم کرنے کہ یہ معنی ہیں کہ ہم نے اس کھنڈر کو ہٹا دیا۔کسی کھنڈر کو اگر ہٹا دیا جائے تو اس کی یہ غرض ہوتی ہے کہ وہاں نئی عمارت بنائی جائے اور اگر یہ غرض ہماری نظر کے سامنے نہیں یا ہم نے اسے پورا نہیں کیا تو ملبہ یا اینٹوں یا مٹی کے ڈھیر کو ہٹا دینے سے کیا فائدہ؟ اگر دنیا میں وہ نیا نظام قائم نہیں ہونا۔جس کے رستہ میں حیات مسیح روک ہے تو اس کو ہٹانے پر اتنی طاقت اور قوت صرف کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ یہ خرابی کوئی نئی نہیں۔معاصحابہ رضی اللہ عنہم کی وفات کے بعد کیونکہ ان کی زندگی میں کسی غلط عقیدہ کی اشاعت کا کوئی امکان نہ تھا لیکن ان کی وفات کے معا بعد بلکہ ابھی ان میں سے بعض زندہ ہی تھے یعنی پہلی صدی میں ہی مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہونے لگا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں اور دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔دوسری صدی میں یہ خیال اور قوی ہو گیا اور تیسری صدی میں قومی تر۔پہلی اور دوسری صدی میں ہمیں ایسے علماء نظر آتے ہیں جو بالوضاحت اور بالبداہت اس عقیدہ کے خلاف اعلان کرتے ہیں مگر جوں جوں زمانہ گزرتا گیا ایسے لوگ کم ہوتے گئے۔حتی کہ آخری زمانہ یعنی پانچویں اور چھٹی صدی سے یہ مسلمانوں کے اندر ایسے طور پر قائم ہو گیا کہ گویا اسلام کا جزو ہے۔کیا مصر اور کیا سپین، کیا مراکش اور کیا الجزائر ، کیا شام اور کیا اناطولیہ اور کیا فلسطین، عرب، عراق، ایران، بخارا، افغانستان، ہندوستان، فلپائن، سماٹرا اور جاوا میں کوئی اسلامی ملک ایسا نظر نہیں آتا جس میں یہ مسئلہ پورے طور پر قائم نہ ہو۔دنیا کا ہر مسلمان اس میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہ بڑا اہم مسئلہ ہے اور شرک ہے مگر سوال یہ ہے کہ جو شرک چھ سو سال تک اسلامی دنیا پر اس طرح چھایا رہا جس نے پہلی ہی صدی میں اپنی شکل دکھانی شروع کی اور برابر زور پکڑتا گیا اللہ تعالیٰ کیوں اس کے مٹانے سے غافل رہا؟ کیوں نہ اسے دور کیا گیا اور کیوں اس کی اہمیت کو اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے ہی ظاہر کر ایا اور کیوں وہ دلائل جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے؟ آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ظاہر فرمائے؟ ذراسی عقل اور سمجھ رکھنے والا آدمی بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ 586