تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 587
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 11 نومبر 1938ء اس زمانہ میں اس مسئلہ پر بحث کا کوئی فائدہ نہ تھا کیونکہ اس کھنڈر کے گرانے کے بعد نئی عمارت بنانے کا کوئی موقعہ نہ تھا حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے ساتھ جو اصل مقصود وابستہ ہے وہ یہ ہے کہ اس امت میں پیدا ہونے والے مسیح کے لئے راستہ صاف کیا جائے اور چونکہ اس کا موقعہ نہ تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑی غلطی کو چھوڑ دیا اور اس کا علاج اپنے ہاتھ میں نہ لیا بلکہ انسانوں کے دماغ پر اسے چھوڑ دیا کہ خود سوچیں۔قرآن کریم میں ایسی آیات، جن سے وفات مسیح علیہ السلام ثابت ہوتی ہے، موجود تھیں۔اسی طرح ایسی احادیث بھی موجود تھیں جن سے وفات مسیح ثابت ہوتی تھی۔وہ آثار صحابہ موجود تھے جن سے حیات مسیح کا مسئلہ باطل ہوتا تھا۔اسی طرح عقل جو اس کو رد کرتی ہے وہ بھی انسانی دماغوں میں موجود تھی اور اگر انسان چاہتا تو اس کا رد کر سکتا تھا۔پس اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں خود اس کا رد نہیں کیا۔اس نے کہا کہ ہم نے قرآن کریم میں اس مسئلہ کو اچھی طرح واضح کر دیا ہے۔آیات قرآنیہ پر غور کرو۔اپنے رسول سے اس کی حقیقت کو ظاہر کروا دیا ہے۔اس کی احادیث کو دیکھ لو۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم بالخصوص خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے اسے حل کر دیا ہوا ہے۔ان کے واقعات کو پڑھ لو پھر تمہارے دماغوں میں عقل موجود ہے اس سے مددلو لیکن اگر تم نہ عقل سے فائدہ اٹھاؤ اور نہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے طریق اور آثار سے، نہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے فائدہ اٹھاؤ اور نہ قرآن کریم سے تو ہم بھی چپ ہیں مگر وہی مسئلہ جس پر اللہ تعالیٰ تیرہ سو سال تک چپ رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اس پر اتنا زور دیا گیا کہ گویا سب سے اہم مسئلہ یہی ہے۔یہ خرابی موجود تھی تیرہ سو سال سے مگر اس کی جڑ اکھیڑ نے کیلئے کوئی انتظام اللہ تعالیٰ نے نہیں کیا۔قرآن کی جو آیات پکار پکار کر آج وفات مسیح علیہ السلام کا اعلان کر رہی ہیں وہ پہلے بھی موجود تھیں لیکن بالکل خاموش تھیں لیکن اب سامنے آکر دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ ہماری کی موجودگی میں تم کس طرح حیات مسیح علیہ السلام کا عقیدہ رکھتے ہو۔اسی طرح وہ احادیث بھی جو وفات مسیح علیہ السلام پر شاہد ناطق ہیں تیرہ سو سال سے موجود تھیں لیکن خاموش تھیں آج کس طرح حقیقت حال کو ظاہر کر رہی ہیں۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع چپکے سے ایک گوشے میں پڑھا تھا اور اس غلط عقیدہ کو رد کرنے میں کوئی حصہ نہ لے رہا تھا مگر آج چلا چلا کر ہمیں اپنی طرف متوجہ کر رہا اور کہہ رہا ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ان صحابہ رضی اللہ عنہم کا فیصلہ ہوں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کو قائم کیا۔تم میری طرف کیوں نہیں دیکھتے ؟ وہ عقل جو پہلے بھی ہر انسان میں موجود تھی خاموش تھی مگر آج اس خیال کو دھکے دیتی اور اس پر قہقہے لگا رہی ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ایسی بات پر ایمان 587