تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 582

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 4 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول سلسلہ مٹ جائے گا مگر ہر دفعہ تم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ کی معجزانہ رنگ میں حفاظت کی اور کوئی دن ایسا نہیں چڑھا جس میں پہلے سے زیادہ جماعت نے ترقی نہیں کی۔مختلف ممالک میں احمدیت پھیلتی جا رہی ہے اور اسی طرح پھیلتی پھیلتی انشاء اللہ ساری دنیا کو ایک دن ادھر پھینچ لائے گی۔یہ چوتھا سبق جو رمضان سے حاصل ہوتا ہے اس کا تعلق بھی تحریک جدید کے ساتھ ہے کیونکہ میں نے انیسواں مطالبہ یہی رکھا ہے کہ دعا کرو کہ اللہ تعالٰی سلسلہ کو ترقی دے۔دعا کے بغیر ہماری قربانیوں کے وہ نتائج پیدا نہیں ہو سکتے جو ہم دیکھنے کے خواہش مند ہیں کیونکہ ان نتائج کا پیدا کرنا ہمارے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ایک ملک جو بارش کا محتاج ہو تم اگر محنت کر کے اس کی زمین میں ہل بھی چلا دو، عمدہ بیج بھی ڈال دو لیکن آسمان سے بارش نہ اترے تو تمہاری محنت کیا نتیجہ پیدا کر سکتی ہے؟ اسی طرح جس نتیجہ کے ہم امید وار ہیں وہ آسمانی بارش چاہتا ہے اور وہ آسمانی بارش دعاؤں سے ہی نازل ہوسکتی ہے۔پس رمضان میں نازل ہو سکتی ہے۔پس رمضان میں تحریک جدید سے اور تحریک جدید میں رمضان سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔یہ چار بڑی بڑی مناسبتیں رمضان کی تحریک جدید سے ہیں اور یہ چار مناسبتیں تحریک جدید کی رمضان سے ہیں۔پس اگر تم رمضان سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو تحریک جدید پر عمل کرو اور اگر تحریک جدید کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہو تو روزوں سے صحیح رنگ میں فائدہ اٹھاؤ تحریک جدید یہی ہے کہ سادہ زندگی بسر کرو اور محنت و مشقت اور قربانی کا اپنے آپ کو عادی بناؤ اور یہی سبق رمضان تمہیں سکھانے آتا ہے۔پس جس غرض کے لئے رمضان آیا ہے اس غرض کے حاصل کرنے کی جدو جہد کر وایسا نہ ہو کہ اپنی زندگی ایسی طرز میں گزار دو کہ رمضان کا آنا نہ آنا تمہارے لئے برابر ہو جائے۔دو پس ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے کہ رمضان تحریک جدید والا ہو اور تحریک جدید رمضان والی ہو۔رمضان ہمارے نفس کو مارنے والا ہو اور تحریک جدید ہماری روح کو تازگی بخشنے والی ہو۔پس جب میں نے کہا کہ رمضان سے فائدہ اٹھاؤ تو دراصل میں نے تمہیں یہ سمجھایا ہے کہ تم تحریک جدید کے اغراض و مقاصد کو رمضان کی روشنی میں سمجھو اور جب میں نے کہا کہ تحریک جدید کی طرف توجہ کرو تو دوسرے لفظوں میں میں نے تمہیں یہ کہا ہے کہ تم ہر حالت میں رمضان کی کیفیت اپنے اوپر وارد رکھو اور صحیح قربانی اور مسلسل قربانی کی اپنے اندر عادت ڈالو۔جو رمضان بغیر کچی قربانی کے گزر جاتا ہے وہ رمضان نہیں اور جو تحریک جدید بغیر روح کی تازگی کے گزر جاتی ہے وہ تحریک جدید نہیں۔۔۔اب پھر وہ وقت آگیا ہے جب کہ تحریک جدید کے پانچویں سال کی مجھے تحریک کرنی ہے مگر اس وقت میں صرف اصولی رنگ میں اس طرف توجہ دلا دیتا ہوں۔آج میں نے چاہا 33 582