تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 583
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 4 نومبر 1938ء کہ تمہیں تحریک جدید کے اصول کی طرف توجہ دلا دوں اور بتا دوں کہ بغیر ان اصول کو اختیار کئے وہ فوائد حاصل نہیں ہو سکتے جن فوائد کو حاصل کرنے کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں۔دراصل جب تک انسان کسی امر کی حکمت سے واقف نہیں ہوتا اس وقت تک باوجود اس کے کہ اس کا کام اچھا ہوا چھے نتائج پیدا نہیں ہوا کرتے۔اب نماز ، روزہ ، زکوۃ، حج سب کام اچھے ہیں اور سب مومن ان احکام کو بجالاتے ہیں مگر سارے یکساں فائدہ نہیں اٹھاتے۔ساروں کی نمازیں وہ نتیجہ پیدا نہیں کرتیں جو نمازوں سے مقصود ہے، نہ ساروں کے روزے وہ نتیجہ پیدا کرتے ہیں جو روزوں کا مقصود ہے اور نہ ساروں کی زکو میں وہ نتیجہ پیدا کرتی ہیں جو زکوۃ کا مقصد ہے۔بعض لوگ بہت زیادہ چندہ دیتے ہیں مگر ان کا نتیجہ بہت کم نکلتا ہے اور بعض لوگ تھوڑا چندہ دیتے ہیں مگر نتیجہ بہت زیادہ نکلتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ مسجد میں بعض لوگوں کی آواز سنی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہم پر کون سی وہ زیادہ فضیلت حاصل ہے؟ جیسے نیکی کے کام وہ کرتے ہیں اسی طرح نیکی کے کام ہم کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا اے لوگو! ابو بکر رضی اللہ عنہ کو فضیلت نماز اور روزہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس نیکی کی وجہ سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔پس نماز روزہ، حج اور زکوۃ کی بظاہر ایک ہی شکل ہے اور جس طرح ایک شخص ان احکام پر عمل کرتا ہے اس طرح دوسرا عمل کرتا ہے مگر پیچھے جو محبت ہوتی ہے وہ نتائج کو بدل کر کہیں کا کہیں لے جاتی ہے۔اسی طرح نماز روزہ کا فائدہ ہر شخص اپنے ظرف کے مطابق اٹھاتا ہے۔ایک شخص نماز پڑھتا ہے اور اسے نماز کا بدلہ بھی مل جاتا ہے لیکن اگر اس کے دل کا ظرف چھوٹا ہے تو جتنا نور اس کے دل میں سما سکتا ہے اتنا سما جائے گا اور باقی بہہ کر ضائع ہو جائے گا۔جیسے اگر کوئی ساقی دودھ تقسیم کر رہا ہو اور اس کے ہاتھ میں ایک گلاس ہو جس کے مطابق اس نے سب کو یکساں دودھ دینا ہو تو وہ شخص جس کے پاس بڑا کٹورا ہو گا وہ تمام دودھ کٹورے میں ڈلوا لے گا اور پھر بھی اس کا کٹورا کچھ خالی رہے گا۔دوسرے کے پاس فرض کرو اتنا ہی پیالہ ہے جتنے میں گلاس بھر دودھ آ سکتا ہے تو جب وہ دودھ پیالہ میں ڈلوائے گا تو گو اس کا پیالہ بھر جائے گا مگر اور دودھ کے لئے اس کے پاس کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔اسی طرح اگر کسی کے پاس تین چوتھائی جگہ ہوگی 3/4 حصہ تو پڑ جائے گا مگر باقی چوتھائی ادھر ادھر کناروں سے بہہ جائے گا اور اگر کسی کے پاس نصف گلاس دودھ کی گنجائش ہے تو نصف گلاس دودھ لے لے گا اور باقی دودھ زمین پر گر جائے گا اور اگر کسی کے پاس بہت ہی چھوٹی سی کٹوری ہے تو اس میں چند گھونٹ دودھ پڑ جائے گا اور باقی ضائع ہو جائے گا اسی طرح بے شک نماز یکساں فائدہ لاتی ہے، روزہ یکساں فائدہ لاتا ہے، حج اور زکوۃ یکساں فائدہ لاتے ہیں لیکن اگر کسی کا 583