تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 581

یک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 4 نومبر 1938ء أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرة:187) جب مومن روزے رکھیں، قربانیاں کریں اور استقلال سے قربانیاں کرتے چلے جائیں اور اس کے بعد دعاؤں سے کام لیں تو وہ دعا خالی نہیں جاتی بلکہ ضرور ان کو ان کے مقاصد میں کامیاب کرتی ہے مگر فرمایا جب استقلال اور قربانیوں کے بعد دعا کریں گے تب ان کی دعاسنی جائے گی یونہی نہیں۔گو یا اللہ تعالیٰ نے استقلال، قربانیوں اور دعا کو لازم و ملزوم قرار دیا ہے۔بغیر دعا کے استقلال کے ساتھ قربانی کرنا دینی عالم میں بیچ ہے اور بغیر استقلال والی قربانیوں کے دعا انسان کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتی۔وہ فرماتا ہے :- أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ (البقرة:187) جو اس رنگ میں دعا کرنے والے ہوں میں ان کی دعاؤں کو سنا کرتا ہوں یعنی جو استقلال کے ساتھ قربانیاں کریں اور پھر کرتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنی کامیابی کیلئے دعائیں بھی کریں ان کی دعا ضرور قبول ہو کر رہتی ہے۔بعض لوگ غلطی سے اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر پکارنے والے کی پکار کوسنتا ہے اور وہ حیران ہوتے ہیں کہ جب خدا کا یہ وعدہ ہے تو پھر ان کی بعض دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟ مگر یہ استدلال درست نہیں اس جگہ تمام دعاؤں کی قبولیت کا خدا تعالیٰ نے کوئی وعدہ نہیں کیا بلکہ فرمایا ہے :- أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ (البقرة:187) میں اس دعا کرنے والوں کی دعا سنتا ہوں جس کا ذکر اوپر ہوا ہے اور اس سے پہلے رمضان اور روزوں کا ذکر ہے جو استقلال سے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں کرنے کا سبق دیتا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ان شرائط کوملحوظ رکھتے ہوئے جن کا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔کوئی شخص دعا کرے تو اس کی دعا ضرور قبول ہو جاتی ہے۔اگر کوئی مجھے مقدس سے مقدس مقام میں بھی کھڑا کر دے تو میں وہاں کھڑا ہو کر یہ قسم کھانے کے لئے تیار ہوں کہ اس قسم کی دعا ہر گز رد نہیں ہوتی۔کوئی قوم جو خدا تعالیٰ کے لئے مستقل قربانیاں کرنے کے ارادہ سے کھڑی ہو جائے اور پھر قربانیاں کرتی چلی جائے اور دعا سے بھی کام لے وہ ضرور کامیاب ہو جاتی ہے۔سابق انبیاء علیہم السلام کی جماعت کا نمونہ ہمارے سامنے ہے۔کیا دنیا میں کوئی بھی نبی ایسا گزرا ہے جو نا کام ہوا ہو؟“ وو گزشتہ سالوں میں جماعت پر کیسے کیسے فتنے آئے۔ہر دفعہ لوگوں نے یہ سمجھا کہ اب یہ 581