تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 580

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 4 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول میں سال میں ترقی کرلی اور جرمنی نے دس سال میں ترقی کر لی مگر ہم نے ان کے مقابلے میں کچھ بھی ترقی حاصل نہیں کی۔وہ بے وقوف یہ نہیں جانتے کہ وہاں قوم کی قوم ایک مقصد کیلئے کھڑی تھی اور یہاں صرف ایک آدمی سے جدوجہد شروع ہوئی۔جاپان نے جب دوڑ شروع کی تو اس نے چار کروڑ لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر دوڑ لگائی اور میں سال کی جدو جہد کے بعد اس نے چار کروڑ کو چھ کروڑ بنا دیا ، اٹلی نے جب دوڑ شروع کی تو اس نے چار پانچ کروڑ لوگوں کو ساتھ لے کر دوڑ شروع کی اور بیس سال کے عرصہ کے بعد انہیں چار سے پانچ کروڑ یا پانچ سے چھ کروڑ بنا دیا۔اسی طرح جرمنی نے جب دوڑ شروع کی تو اس نے سات کروڑ لوگوں کے ساتھ شروع کی اور دس سال بعد انہیں آٹھ کروڑ بنا دیا۔گویا وہ اس جدو جہد میں صرف چودہ فیصدی سے لے کر پچاس فیصدی تک بڑھے۔حالانکہ کروڑوں لوگ ایک ہی مقصد اور ایک ہی مدعا کو لے کر کھڑے ہوئے تھے۔اس کے مقابلہ میں کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہماری دوڑ صرف ایک شخص سے شروع ہوئی ؟ ایک شخص نے قادیان میں کھڑے ہو کر جو تمام متمدن دنیا سے الگ ایک گوشہ میں پڑا ہوا گاؤں تھا ، ساری دنیا کے مقابلہ میں لڑائی شروع کر دی اور پھر وہ بڑھا اور بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ پہلے وہ ایک تھا مگر آج کئی لاکھ آدمی اس کے ساتھ ہیں۔پس اٹلی اور جرمنی اور جاپان نے پچاس فیصدی ترقی کی لیکن یہاں ایک سے کئی لاکھ بن گئے۔اب پچاس فیصدی اور لاکھ فیصدی میں بھلا کوئی بھی نسبت ہے؟ پھر جس جس میدان میں قربانی کی ضرورت تھی ان تمام میدانوں میں جماعت احمدیہ نے قربانی کی۔پس ہماری جماعت نے بھی حیرت انگیز ترقی کی ہے لیکن چونکہ ہماری جدوجہد کا دائرہ بہت وسیع ہے اس لئے گو ہماری موجودہ کامیابی بھی بہت بڑی ہے مگر ہمارا اصل مقصد ابھی دور ہے اور گروہ دیر میں آنے والا ہے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کے مقابلہ میں تمام دنیا کی فتوحات بھی بیچ ہیں کیونکہ اس کا دائرہ بہت وسیع اور اس کا حلقہ اثر عالمگیر ہے۔چوتھا سبق رمضان سے ہمیں یہ حاصل ہوتا ہے کہ کوئی بڑی کامیابی بغیر دعا کے حاصل نہیں ہو سکتی۔بالخصوص دین میں تو کوئی کامیابی اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک دعا نہ کی جائے۔دنیا بغیر دعا کے حاصل ہو جائے تو ہو جائے دین حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیوی کا میابیوں کے لئے بھی عملی دعا ضروری ہوتی ہے جسے لفظوں میں قوت ارادی کہتے ہیں۔قوت ارادی اور عزم در اصل دعا ہی کا ایک نام ہے۔دعا کیا ہے؟ اپنے عزم اور ارادہ کا لفظوں میں اظہار۔بہر حال کوئی دینی جماعت دعا کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں روزوں کے احکام کے ذکر میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ :- 580