تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 579

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول وو اقتباس از خطبه جمعه فرموده 4 نومبر 1938ء جرمن قوم کی تعریف نہیں کی جائے گی کیونکہ جبر سے اس سے قربانیاں کرائی جاتی ہیں لیکن تمہاری تعریف کی جائے گی کیونکہ تم نے خدا تعالیٰ کیلئے اپنے نفس پر پابندیاں عائد کیں۔پس گوان کی تکلیف زیادہ ہے مگر ان کا ثواب کم ہے کیونکہ طاقت اور قانون کے زور سے ان سے یہ قربانیاں کرائی جارہی ہیں اور گوتمہاری تکلیف کم ہے مگر تمہارا ثواب زیادہ ہے کیونکہ تم اپنی مرضی سے خدا تعالیٰ کیلئے قربانیاں کر رہے ہو۔وو یہی حال اٹلی کا ہے۔اٹلی کی قوم بھی مردہ تھی مگر اس نے بھی مشقتوں کا اپنے آپ کو عادی بنا کر اور متواتر قربانیاں کر کے نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی عزت حاصل کی بلکہ پہلے سے بھی زیادہ دبدبہ اور رعب حاصل کر لیا۔اسی طرح جاپان بھی مردہ تھا مگر جب ان میں قربانی کی روح پیدا ہوگئی تو وہ بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو گیا۔تو رمضان میں قربانی اور استقلال کے ساتھ قربانی کا سبق مومنوں کو سکھایا جاتا ہے اور انہیں مشقت برداشت کرنے کا عادی بنایا جاتا ہے۔اگر اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور تحریک جدید کے مطالبات کو عملی جامہ پہنایا جائے تو یقیناً وہ اہم شمرات پیدا ہوں گے جو انہی قوموں کی جدو جہد کے نتیجہ میں پیدا ہوا کرتے ہیں۔ہمارے ثمرات یقیناً دیر کے بعد آنے والے ہیں اور ہماری مثال اٹلی اور جرمن اور جاپان کی سی نہیں۔وجہ یہ کہ اٹلی اور جرمنی اور جاپان نے ملکوں کو فتح کیا مگر ہم نے دلوں کو فتح کرنا ہے اور دلوں کو فتح کرنا ملکوں کے فتح کرنے سے زیادہ مشکل ہوا کرتا ہے۔پس ہماری فتح کویقینی ہے مگر وہ کچھ دیر کے بعد دیر آید درست آید کے مقولہ کے مطابق آنے والی ہے۔اس کے علاوہ ہم میں اور ان میں ایک اور فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر جرمنی نے ترقی کی تو صرف جرمن قوم کو اس نے عروج پر پہنچایا ، اگر اٹلی نے ترقی کی تو صرف اٹلی کی قوم کو اس نے عزت کا مستحق بنایا اور اگر جاپان نے ترقی کی تو صرف جاپانیوں کو اس نے معراج کمال تک پہنچایا لیکن اگر ہماری کوششوں کو اللہ تعالیٰ بار آور فرمائے تو وہ صرف ہمیں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کو فائدہ پہنچائیں گی اور ہماری فتح جسموں پر نہیں بلکہ دلوں پر ہوگی اور ہماری فتح انسانوں پر نہیں بلکہ فرشتوں پر ہوگی بلکہ اگر بے ادبی نہ ہو تو ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا خدا بھی ہمارے قبضہ میں آ جائے گا۔پس ہماری کوششوں کے نتائج بہت اہم ہیں اور ہماری ذمہ داریاں بہت وسیع ہیں اور ہماری منزل بہت دور ہے۔کئی بے وقوف نو جوان ہیں جو کہہ دیا کرتے ہیں کہ جاپان نے تمیں سال میں ترقی کر لی ، اٹلی نے 579