تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 526

اقتباس از خطبہ جمعہ مورخہ 7 جنوری 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول نومبر کے آخر میں میں نے یہ تحریک کی تھی اور ابھی اس تحریک پر دس بارہ روز نہیں گزرے تھے کہ اس جماعت نے اپنے وعدوں کی لسٹ بھیج دی جو بہت حد تک مکمل تھی اور جو چند اور دوست باقی رہتے تھے ان کی لسٹ 2015 دسمبر تک پہنچ گئی بلکہ پہلے انہوں نے بذریعہ تار اپنے وعدے بھجوائے اور پھر تفصیلی فہرستیں بعد میں بھیجیں۔ان کی اس سرگرمی اور اخلاص کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ پہلے سال انہوں نے چھتیں سو روپیہ داخل کیا تھا مگر اس سال پہلے پینتیس سو کی لسٹ بھیجی اور اب تک چار ہزار کی لسٹ بھجوا چکے ہیں اور ابھی کہہ رہے ہیں کہ اور وعدے بھجوائیں گے۔تو اگر دور کی جماعتیں اس عرصہ میں کام کر سکتی تھیں تو کیا وجہ ہے کہ قریب کی جماعتیں فہرست مکمل نہ کر سکیں اور اس خیال میں بیٹھی رہیں کہ ابھی کافی وقت ہے۔پس محض اس لئے سستی کرنا کہ 31 جنوری 1938 ء تک ابھی کافی وقت ہے ایک خطر ناک علامت ہے جس کا نتیجہ بعض دفعہ یہ نکلتا ہے کہ انسان آخری وقت میں بھی شامل نہیں ہو سکتا اور ثواب حاصل کرنے سے محروم رہ جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں جو تین صحابی ایک جنگ سے پیچھے رہ گئے تھے وہ اس لئے پیچھے رہے تھے کہ پہلے وہ خیال کرتے رہے کہ ابھی کافی وقت ہے ہم تیاری کر لیں گے مگر آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جہاد کے لئے چل پڑے اور چونکہ ان کی تیاری مکمل نہیں تھی اس لئے وہ محروم رہ گئے۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ہوشیار ہو جائیں اور اپنے اپنے وعدے جلد لکھ کر دفتر میں بھجوا دیں اور جس جماعت کے دوست یہ سمجھتے ہوں کہ ان کے سیکر ٹری سست ہیں میں انہیں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو ثواب کے مواقع آتے ہیں وہ سیکرٹریوں اور پریذیڈنٹوں کے لئے نہیں ہوتے بلکہ ہر شخص کے لئے ہوتے ہیں۔پس وہ اپنے آپ کو سلسلہ کے کاموں کا ذمہ دار سمجھتے ہوئے سیکرٹری یا پریذیڈنٹ تصور کر لیں اور کام شروع کردیں۔خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی سیکرٹری اور پریذیڈنٹ ہوں گے۔پس تم دوسروں کے مونہوں کی طرف مت دیکھو تم اپنی زبان کو خدا کی زبان اور اپنے ہاتھوں کو خدا کا ہاتھ سمجھوتا اللہ تعالیٰ کی رحمت تم پر نازل ہو۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری جماعت سے شرک کو کلی طور پر دور کر کے توحید کامل کا مقام ہمیں عطا کرے ہمیں بچی قربانیوں کی توفیق دے اور ہم میں سے ہر شخص کا حوصلہ اتنا بڑھائے کہ وہ سمجھے کہ سلسلہ کی تمام ذمہ داریاں اسی پر ہیں اور دوسروں کی سستی ہماری چستی کو دور کرنے والی نہ ہو بلکہ ہماری چستی دوسروں کی سستی دور کرنے والی ہو۔اللهم آمین ( مطبوعہ الفضل 13 جنوری 1938ء) 526