تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 525

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه مورخہ 7 جنوری 1938ء بعد اللہ تعالیٰ ایسے حالات بھی پیدا کر دے گا کہ بعض قسم کے ابتلاء دور ہو جائیں گے اور اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے نشانات ظاہر ہو جائیں گے کہ جن کے نتیجہ میں بعض مقامات کی تبلیغی روکیں دور ہو جائیں گی اور سلسلہ احمد یہ نہایت تیزی سے ترقی کرنے لگ جائے گا۔پس میں نے چاہا کہ اس پیشگوئی کی جو آخری حد ہے یعنی 1944 ء اس وقت تک تحریک جدید کو لئے جاؤں اور جماعت سے قربانیوں کا مطالبہ کرتا چلا جاؤں تا آئندہ آنے والی مشکلات میں اسے ثبات حاصل ہو۔پس آج میں پھر خصوصیت کے ساتھ تمام جماعتوں کو خواہ وہ بڑی جماعتیں ہیں یا چھوٹی ، قریب کی جماعتیں ہیں یا دور کی توجہ دلاتا ہوں کہ جلد سے جلد وہ اپنی لسٹوں کو مکمل کر کے بھیج دیں کیونکہ ہندوستان کی جماعتوں کیلئے جو آخری تاریخ مقرر ہے اس میں اب بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں اور کوشش کریں کہ اگر وہ سابقون الاولون میں شامل نہیں ہو سکے تو کم از کم پھڈی بھی نہ رہیں اور اپنے اخلاص سے کام لیتے ہوئے قربانیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کریں۔کیا یہ افسوس کی بات نہیں کہ ہندوستان سے باہر کی جماعتیں جن کو اپریل تک مہلت حاصل ہے وہ تو اپنے وعدے بھجوا رہی ہیں مگر ہندوستان کی کئی جماعتیں جو بغل میں بیٹھی ہوئی ہیں وہ بالکل خاموش ہیں اور انہوں نے وعدے بھجوانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔اگر افریقہ کے لوگ اس قسم کی چستی دکھا سکتے ہیں اور ایسی جگہوں سے اپنے وعدے اس عرصہ میں بھیج سکتے ہیں جہاں سے خط بھی پندرہ بیس دن میں پہنچتا ہے تو کیا یہ افسوس اور شکوہ کی بات نہ ہوگی کہ پنجاب اور ہندوستان کی جماعتوں کے عہدیدار ستی دکھا ئیں اور وہ خاموشی سے بیٹھے رہیں؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ 31 جنوری 1938 ء تک انہیں مہلت حاصل ہے مگر اس میعاد کے ابتدائی وقت میں شامل ہونے کی بجائے آخری وقت شامل ہونے کی کوشش کرنا بھی کوئی اچھی علامت نہیں۔بے شک بہت جلدی بھی اچھی نہیں ہوتی اور ان لوگوں کو جو معمولی توجہ سے بیدار ہو سکتے ہیں ترک کردینا کوئی خوبی نہیں مگر اس کے یہ معنی بھی نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھا ر ہے اور کہے کہ ابھی کافی وقت ہے۔آخری تاریخ کو خط لکھ دیں گے۔حیدر آباد کی جماعت کافی دور ہے مگر وہ بڑی جماعتوں میں سے ایک ہے جنہوں نے بہت جلد اپنے وعدے بھجوا دیئے۔بے شک اس میں بھی بعض کمزور ہیں ،مگر ایسے بھی لوگ ہیں جو قربانی کی حقیقت کو سمجھتے ہیں اور وہاں سے جو چندہ آتا ہے وہ مقدار کے لحاظ سے بڑی بڑی جماعتوں کے چندوں کے برابر ہوتا ہے۔وہاں سے یہاں پانچ دن میں خط آتا ہے لیکن میری اس تحریک کے دسویں بارہویں دن حیدر آباد کی جماعت کے وعدوں کا بہت سا حصہ پہنچ چکا تھا۔525