تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 527

تحریک ہو ہے۔ایک المی تحریک - جلد اول جدید وو اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 21 جنوری 1938ء خدا تعالیٰ اپنا چہرہ ہمیشہ قربانیوں کے آئینہ میں دکھاتا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جنوری 1938ء تحریک جدید کے دوسرے دور کے مالی وعدے کا زمانہ اب چند دنوں میں ختم ہونے والا ہے اور جیسا کہ میں اعلان کر چکا ہوں 31 جنوری کے بعد ہندوستان کے ان علاقوں کے، جن میں اردو بولی جاتی ہے یا کبھی جاتی ہے، مزید وعدے وصول نہیں کئے جائیں گے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس خطبہ کے ذریعہ سے جو اس دوران میں چھپ کر جماعت تک پہنچنے والے خطبوں میں سے آخری خطبہ ہوگا۔جماعت کو پھر ایک دفعہ ان کی مالی خدمات کے سلسلہ میں ذمہ داریوں اور دوسری ذمہ داریوں کی طرف توجہ دوں۔خدا تعالیٰ کے کام ہو کر رہیں گے اور بندوں کی سستی یا غفلت ان میں کوئی حرج پیدا نہیں کر سکتی۔وہ جو ستی کرتا ہے خود اپناہی نقصان کرتا ہے اور اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو خدا تعالیٰ کے فضلوں سے محروم کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کا دین زید یا بکر کا محتاج نہیں۔اگر زید یا بکر پہلی آواز دینے والوں میں سے بنیں تو خدا تعالیٰ دوسرے ثواب کی پہلی آواز بھی انہیں تک پہنچاتا ہے لیکن اگر وہ اس آواز کونہ نہیں اور اس کی طرف سے اپنے کان بہرے کر لیں تو پھر وہ اور دوسرے شخصوں کو آگے لے آتا ہے تا کہ وہ اس کے دین کی خدمت کریں کہ خدا تعالیٰ کی فوج میں تھک جانے والے اور ملال پیدا کرنے والے اور ہتھیار پھینک دینے والے اور نتائج کے متعلق جلد بازی کرنے والے کبھی قبول نہیں ہوتے۔تھوڑی سی قربانیوں کے بعد بڑی امنگوں کے ساتھ تو ادنیٰ سے ادنی آدمی بھی کھڑے ہو جاتے ہیں اور وقتی قربانی خواہ کتنی ہی عظیم الشان ہو کمزور سے کمزور انسان بھی پیش کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے بلکہ سچ یہ ہے کہ تھوڑے سے وقت میں کسی اشتعال کے ماتحت یا جوش کے ماتحت بڑی سے بڑی قربانی کرنا کمزوروں ہی کا کام ہے اور طاقتور اور مضبوط ایمان والے وہی ہوتے ہیں جن کا قدم مضبوطی کے ساتھ ایسے مقام پر قائم ہوتا ہے کہ دن کے بعد دن اور ہفتے کے بعد ہفتہ اور مہینے کے بعد مہینہ اور سال کے بعد سال اور دسیوں سال کے بعد دسیوں سال مصائب اور قربانی کے گزرتے چلے جاتے ہیں لیکن ان کے دل میں اپنے آرام کی خاطر کبھی یہ خیال بھی نہیں آتا کہ منزل مقصود کب آنے والی ہے اور انہیں بیٹھنے کا موقعہ کب ملے گا ؟ وہ اگر کبھی دعا کرتے ہیں اور منی نصر اللہ کہتے ہیں تو صرف اس لئے کہ خدا کا جلال ظاہر 527