تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 524
اقتباس از خطبهہ جمعہ مورخہ 7 جنوری 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول چندہ دینے کا وعدہ کیا ہے اور بہت سے افراد ایسے ہیں جنہوں نے اپنے پہلے سال کے چندہ سے دو گنا بلکہ تکنا اور تیسرے سال سے بھی کچھ زیادہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔اس کے مقابلہ میں جو لوگ سابقون الاولون میں شامل نہیں ہو سکے اور پیچھے رہ گئے ہیں ان میں سے بعض کی حالت نمایاں طور پر قابل اعتراض ہے۔چنانچہ بعض دوست اس دفعہ جلسہ پر آئے اور انہوں نے بیان کیا کہ ہمارے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ نے چونکہ خود چندہ نہیں دیا اس لئے جب اس تحریک کا ان سے ذکر ہو تو وہ کہہ دیتے ہیں میاں یہ طوعی چندہ ہے جس کی مرضی ہو اس میں حصہ لے اور جس کی مرضی ہو نہ لے۔ایسے سیکرٹریوں اور پریذیڈنٹوں کو دیکھتے ہوئے میں نے پہلے سے دوستوں کو ہوشیار کر دیا تھا اور بتا دیا تھا کہ جب وہ اپنے کسی سیکر ٹری کو سست دیکھیں تو اس کی جگہ کسی اور کوتحریک جدید کا سیکریٹری مقرر کر لیں اور اپنے سیکرٹری یا پریذیڈنٹ کی غفلت اور ستی کی وجہ سے ثواب کے اس موقعہ کو نہ کھوئیں۔پس جس جس جگہ کی جماعتوں کے سیکرٹریوں نے اپنے فرائض کی طرف کما حقہ توجہ نہیں کی انہیں چاہئے کہ وہ اگر دیکھیں کہ ان کے سیکرٹری اپنے فرائض کی ادائیگی میں سستی کر رہے ہیں تو ان کی بجائے کسی اور کو سیکرٹری مقرر کر دیں اور اگر ساری جماعت میں سے کوئی ایک ہی دوست ایسا ہے جو چست ہے تو وہی آگے آجائے اور اپنے آپ کو پریذیڈنٹ اور سیکرٹری تصور کر کے کام شروع کر دے کیونکہ خدا تعالیٰ کی دین بعض دفعہ ایسے رنگ میں آتی ہے کہ انسان کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔ممکن ہے پہلے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ کو اللہ تعالیٰ ثواب سے محروم رکھنا چاہتا ہو اور اب اس نئے شخص کو ثواب کا موقعہ دینا چاہتا ہو؟ پس وہ پیچھے نہ رہے بلکہ آگے آئے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی مجلس کا سیکرٹری سمجھ لے۔میں نے پچھلے سالوں میں بتایا تھا کہ قربانی وہی ہے جو انتہا تک پہنچے۔پس یہ مت خیال کرو کہ فلاں شخص جس نے پہلے اتنا چندہ دیا تھا اس نے چونکہ اس دفعہ اپنا چندہ نہیں لکھوایا اس لئے ہم بھی اس کی تقلید کریں۔بہت لوگ بظاہر بڑے نیک ہوتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ گر جانے والے ہوتے ہیں اور بہت بظاہر کمزور اور بے حقیقت نظر آتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ کی نظر میں وہ بہت طاقتور ہوتے ہیں۔پس ایسا نہ ہو کہ تم کہو جب فلاں شخص نے اس کام کو نہیں کیا۔جو وعدے دار ہے تو ہم کیوں کریں۔شاید خدا اب اسے گرانے کا ارادہ رکھتا ہو کہ تمہیں اٹھائے اور بلند کرے۔پھر یہ امر اچھی طرح یا درکھو کہ قربانی وہی ہے جو موت تک کی جاتی ہے۔پس جو آخر تک ثابت قدم رہتا ہے وہی ثواب پاتا ہے۔اگر کوئی کہے کہ پھر نئے دور کو سات سال تک کیوں محدود رکھا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قربانیاں کئی رنگ میں کرنی پڑتی ہیں۔موجودہ سکیم کو میں نے سات سال کے لئے مقرر کیا ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ بعض پیشگوئیوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ 1942ء یا 1944 ء تک کا زمانہ ایسا ہے جس تک سلسلہ احمدیہ کی بعض موجودہ مشکلات جاری رہیں گی۔اس کے 524