تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 520
اقتباس از تقریر فرموده 28 مارچ 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول یہ وہی مضمون ہے جو حد بیٹوں میں آتا ہے کہ اگر صفیں ٹیڑھی ہوں گی تو تمہارے دل ٹیڑھے ہو ؟ جائیں گے۔اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے جب بعض نے ان میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات نہ مانی تو ان کی صف ٹیڑھی ہوگئی اور ان کی صف ٹیڑھی ہونے کے نتیجہ میں دل بھی آگے پیچھے کر دیئے گئے اور ان کا امن اور اتحاد تباہ ہو گیا۔وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمِ الْفُسِقِينَ (القت: 6) اور اللہ تعالی عہد شکنوں کی قوم کو بھی کامیاب نہیں کیا کرتا۔فسق کے معنے ہوتے ہیں خَرَجَ عَنِ الطَّاعَةِ۔اور فاسق اس کو کہتے ہیں جو اپنے عہد کی حدود سے نکل جائے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عہد شکنوں کی قوم کو ہم کبھی کامیاب نہیں کیا کرتے۔وہی قوم کامیاب ہوتی ہے جو وعدہ کرتی اور پھر ہر حال میں خواہ عسر ہو یا میسر ، اسے پورا کرتی ہے۔صحابہ میں یہی بات تھی اور اسی وجہ سے دنیا ان پر ہاتھ اٹھانے سے ڈرتی تھی۔آج ہم پر بھی لوگ ہاتھ اٹھانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ رعب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں عطا ہوا ہے وہ ان کے سامنے آجاتا ہے مگر بہر حال ہمیں سمجھنا چاہئے کہ جب تک ہم اپنے وعدوں پر قائم رہیں سے تبھی تک اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت بھی نازل ہوگی اور اگر ہم نے اپنے عہدوں سے انحراف کرلیا تو خدا تعالیٰ کی نصرت بھی جاتی رہے گی۔سو آج میں پھر تمام جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اگر وعدوں کو پورا کرنے کا ارادہ نہ ہو تو وعدہ ہی نہ کیا کرو اور اگر اپنی خوشی سے وعدے کر و تو پھر چاہے موت آجائے ، چاہے ذلت برداشت کرنی پڑے ان وعدوں کو پورا کرو اور اگر دیکھو کہ وعدے پورے کرنے کی تم میں استطاعت نہیں تو تم میرے پاس آجاؤ میں تمہیں ہر وقت معاف کرنے کے لئے تیار ہوں۔اللہ تعالیٰ کے جو مستقل احکام ہیں ان میں تو میں کچھ نہیں کر سکتا۔مثلاً نماز ہے، اسے میں معاف نہیں کر سکتا، روزے ہیں وہ میں معاف نہیں کر سکتا، زکوۃ ہے وہ میں معاف نہیں کر سکتا لیکن جو وقتی احکام ہوں ان میں میں تبدیلی کر سکتا ہوں۔پس کیوں جماعت کے لوگ جرات کر کے میرے پاس نہیں آتے اور اگر ان میں استطاعت نہیں تو وہ مجھ سے معافی نہیں لے لیتے اور یا پھر ہمت کر کے ان وعدوں کو پورا نہیں کر دیتے ؟ میں نہیں سمجھ سکتا ان دو باتوں کے علاوہ کوئی بھی راہ ہو؟ یا تو وہ وعدے جو تم نے اپنی خوشی سے کئے ہیں پورے کرو اور اگر پورے نہیں کر سکتے تو میری طرف سے آزادی ہے۔تم میرے پاس آؤ اور اپنا معاملہ پیش کرو۔میں ہر وقت اس پر ہمدردانہ طور پر غور کرنے کیلئے تیار ہوں۔اب تک ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کی جاسکتی کہ کسی شخص نے 520