تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 519

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول لِمَ تُؤْذُونَنِي اقتباس از تقریر فرمود 28 مارچ 1937ء تم کیوں مجھے تکلیف دیتے ہو؟ جبکہ تمہارے اختیار میں تھا کہ تم میری جاری کردہ تحریک میں شامل ہوتے یا نہ ہوتے پھر جبکہ تم نے اپنی خوشی سے اس میں شامل ہونا پسند کیا وَقَدْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمُ (الصف: 6) اور تمہیں یہ بھی پتہ ہے کہ میں خدا تعالیٰ کا رسول ہوں تو پھر اپنے اقرار کو کیوں پورا نہیں کرتے ؟ گویا تم نے کسی میرے کام کے متعلق وعدہ نہیں کیا بلکہ اس انسان کے ہاتھ پر وعدہ کیا ہے جس کی رسالت پر تمہارا یقین ہے۔ان حالات میں تمہارا فرض تھا کہ تم اس عہد کو پورا کرتے مگر تم نے اپنے عہد کو پورا نہ کر کے مجھے بہت دکھ دیا ہے۔ضمناً اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہی اقرار انسان پورا کرنے پر مجبور ہوتا ہے جو نیکی کا اقرار ہو اور جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہو۔بدی کے متعلق کوئی اقرار نہیں ہوتا۔حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے ایک شخص کو نصیحت کی کہ فلاں عورت سے تم نے ناجائز تعلق رکھا ہوا ہے یہ سخت گناہ کی بات ہے اسے چھوڑ دو۔تو وہ کہنے لگا مولوی صاحب وہ عورت ہو کر اپنے اقرار پر قائم ہے تو کیا میں مرد ہو کر بے ایمان ہو جاؤں اور اس کو چھوڑ دوں؟ گویا اس کے نزدیک کسی غیر عورت کو اپنے گھر میں ڈال لینا اور آپس کے اقرار کو پورا کرنا یہ ایمان تھا۔حالانکہ شرارت کا وعدہ کوئی وعدہ نہیں ہوتا۔وعدہ وہ ہے جو نیکی پر مبنی ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی اس امر کی طرف اپنی قوم کو توجہ دلاتے اور فرماتے ہیں کہ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے غلطی سے وعدہ کر لیا تھا اب ہمیں سمجھ آیا کہ یہ وعدہ ناجائز تھا کیونکہ اگر کسی غیر سے وعدہ ہوتا تو تم کہہ سکتے تھے کہ ہمیں بعد میں غور کر کے معلوم ہوا کہ ہمارا وعدہ درست نہیں لیکن تم تو میرے متعلق یہ یقین رکھتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، پھر تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ میں نے تم سے کسی برے کام کے متعلق وعدہ لیا۔پس تم یہ عذر نہیں کر سکتے۔کیونکہ اگر یہ عذر کرو تو یہ تمہارے دین، ایمان، انصاف اور دیانت کے بالکل خلاف ہو گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ فصیحت جب ان کی قوم نے نہ سنی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَلَمَّا زَاغُوا اَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ (الصف: 6) 519