تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 521
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 28 مارچ 1937ء چندے کی معافی کی مجھ سے درخواست کی ہو اور میں نے اسے منظور نہ کیا ہو۔پس کیوں آپ لوگ ان دونوں راہوں میں سے ایک راہ اختیار نہیں کرتے اور خواہ مخواہ گنہگار بنتے ہیں۔اب آپ لوگ میرے پاس آتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ ہم سادہ زندگی اختیار کریں گے مگر پھر لوگوں میں یہ کہتے پھرتے ہیں کہ خلیفہ اسیح سات سات کھانے کھاتے ہیں۔ایسے جھوٹ کی بھلا کیا ضرورت ہے؟ پس آپ لوگوں نے تحریک جدید کے متعلق جو وعدے کئے ہیں ان کے متعلق وہ طریق عمل اختیار کریں جو میں نے بتایا ہے۔یا تو اپنے وعدوں کو پورا کریں اور یا پھر مجھ سے معافی لے لیں۔جو مستقل شرعی احکام ہیں ان کے متعلق یقین کر لیں کہ میں ان میں کچھ نہیں کر سکتا لیکن جو مطالبہ میں نے کیا ہے وہ بدل بھی سکتا ہے اور اس کی تبدیلی اور تغیر میرے اختیار میں ہے۔اس کے بعد میں دوبارہ احباب سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے دلوں میں یہ عہد کر کے جائیں کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں گے اور خواہ انہیں کس قدر تکلیف اٹھانی پڑے وہ تکلیف اٹھا کر بھی اپنے عہدوں کو نباہیں گے۔چونکہ دوستوں نے اب جانا ہے اور اڑھائی بجنے والے ہیں اس لئے میں بقیہ رکوع کی تشریح چھوڑتا ہوں اور دعا کر کے اس جلسہ کو برخاست کرتا ہوں“۔رپورٹ مجلس شوری منعقد ہ 26 تا 28 مارچ 1937 ء ) | (مطبوعه الفضل 6 مئی 1937 ء ) 521