تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 518

اقتباس از تقریر فرموده 28 مارچ 1937 ء اس کے بعد فرماتا ہے:۔تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول 5 إنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوص (القت: 5) اللہ تعالیٰ یقیناً ان لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو اس کی راہ میں یوں جنگ کرتے ہیں گویا وہ ایسی دیواریں ہیں جن کے رخنے سیسہ ڈال ڈال کر پر کئے گئے ہیں۔اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مومن کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ متحد ہو کر رہے۔چنانچہ دیکھ لو نمازوں کے وقت بھی صفیں سیدھی رکھی جاتی ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر تم صفیں ٹیڑھی کرو گے تو تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔اس کے معنے یہی ہیں کہ جس طرح باطنی رخنے خرابی کا موجب ہوتے ہیں اسی طرح ظاہری رخنے بھی خرابی کا موجب ہوتے ہیں۔گویا نماز کی ظاہری صف کے ٹیڑھے ہونے کو بھی اسلام پسند نہیں فرما تا کجا یہ کہ دلوں میں رخنے ہوں اور اتحاد کی بجائے بغض اور عناد بھرا ہوا ہو۔پھر دیوار کی مثال دے کر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ مومن کا کام یہ ہے کہ نہ صرف دینی امور میں وہ خود مضبوط ہو بلکہ دوسروں کو بھی مضبوط رکھے۔جیسے اینٹیں جب دیوار پر لگائی جاتی ہیں اور ان پر سیمنٹ کا پلستر کر دیا جاتا ہے تو وہ ہل کر ایک دوسری کو مضبوط بنادیتی ہیں۔پس مومن کا کام صرف یہی نہیں کہ خود مضبوط بنے بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ دوسروں کو بھی مضبوط بنائے۔وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِي وَقَدْ تَعْلَمُونَ أَنِّي ( الصف : 6) رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمُ جب موسٹی نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اتم مجھے کیوں دکھ دیتے ہو؟ یہاں خدا تعالیٰ نے اگر چہ یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کیا دکھ دیا لیکن سیاق کلام سے صاف پتہ لگتا ہے کہ اس کا اشارہ اسی امر کی طرف ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں بھی بعض لوگ ایسے تھے جو باتیں بہت کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی اس کی قوم کے بعض افراد نے ایسی حرکات کیں جن سے اسے تکلیف ہوئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ کہنا پڑا کہ جب میں کہتا ہوں کہ میری فلاں تحریک میں شامل ہونا اپنی مرضی پر منحصر ہے۔تو تم پہلے تو کہہ دیتے ہو کہ ہم سبھی اس میں شامل ہوں گے لیکن درمیان میں آکر رخنہ ڈال دیتے ہو اور اپنے وعدہ کو پورا نہیں کرتے۔اب تم خود ہی بتاؤ کہ تم مجھے کیوں تکلیف دیتے اور میری جاری کردہ سکیموں کو تباہ کرتے ہو؟ 518