تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 517

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد اول اقتباس از تقریر فرمود و 28 مارچ 1937ء راجہ کے ہاں چونکہ اولاد نہیں ہوتی تھی اور اولاد بنا بر ہا کا کام تھا اس لئے اس نے برہما کی پرستش شروع کر دی۔آخر اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔جب وہ گیارہ سال کا ہوا اور عقل اس کی پختہ ہونی شروع ہوئی تو اس نے اپنے باپ سے کہا کہ آپ برہما کی کیوں پرستش نہیں کرتے اور اس کے احسان کے بدلہ میں بے وفائی کیوں دکھاتے ہیں؟ باپ نے کہا اب برہما نے ہمارا کیا کر لینا ہے۔اب تو ہم شوجی کی پوجا کریں گے تا وہ تم کو زندہ رکھیں۔بیٹے نے کہا میں تو برہما کی پرستش کروں گا۔اس نے مجھے پیدا کیا ہے اور اس کے احسان کا میں شکر ادا کروں گا۔اس پر باپ بیٹے میں اختلاف ہو گیا اور یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ باپ نے غصہ میں آکر دعا کی کہ شوجی میرے بیٹے کو مارڈالو یہ بڑا نا خلف اور نالائق ہے۔چنانچہ شوجی نے اسے مار دیا۔برہما کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ کہنے لگے: بائیں! میری پرستش کرنے کی وجہ سے یہیڑ کا مارا گیا ہے؟ میں اسے زندہ کروں گا۔چنانچہ انہوں نے اسے زندہ کر دیا۔شوجی نے اسے پھر مار دیا۔برہما کو پھر جوش آیا اور انہوں نے اسے پھر زندہ کر دیا۔غرض ایک لمبے عرصہ تک بر ہم زندہ کرتا اور شوجی مار دیتے ، شوجی مارتے اور برہم زندہ کرتے۔یہ ہے تو قصہ اور قصہ کے لحاظ سے لغو بھی مگر سبق سے خالی نہیں۔اس میں سبق یہ ہے کہ جب خدا تعالی کے لئے کوئی شخص جان دیتا ہے تو کون ہے جو اسے مار سکے؟ وہی تو پیدا کرنے والا ہے اور جب وہی پیدا کرنے والا ہے تو اس پر موت کس طرح آسکتی ہے ؟ پس اس قصہ میں کم از کم یہ سبق ضرور ہے کہ اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے لئے مرتا ہے تو وہ مرتا نہیں۔دیکھ لوحضرت اسماعیل علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربان کیا مگر کیا وہ قربانی رائیگاں گئی اور کیا حضرت اسماعیل ہمیشہ کے لئے زندہ نہ ہو گئے؟ پس اگر کوئی اپنی مرضی سے کوئی چندہ لکھاتا اور کسی قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ اپنے عہد کو نیا ہے خواہ کس قدر ہی تکلیف ہو اور یقین رکھے کہ خدا تعالیٰ کے لئے موت قبول کر کے انسان موت کا شکار نہیں ہوتا بلکہ موت سے محفوظ ہو جاتا ہے اور جس کی نیت وعدہ پورا کرنے کی نہ ہو وہ وعدہ کرے ہی نہ۔کیونکہ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف:4) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم اس بات سے سخت ناراض ہوتے ہیں کہ تم خوشی سے ایک عہد کرو اور پھر عملی رنگ میں اسے پورا نہ کرو۔517