تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 514
اقتباس از تقریر فرموده 28 مارچ 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول نازل ہوئی بلکہ اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اس آیت کی زندہ مثال فلاں صحابی میں پائی جاتی ہے۔تو صحابہ اس آیت کے زندہ ثبوت کے طور پر ایک صحابی کا واقعہ پیش کیا کرتے تھے۔بدر کی جب جنگ ہوئی تو وہ صحابی اس میں شامل نہ ہو سکے۔جب جنگ ہو چکی اور انہیں معلوم ہوا کہ اس طرح کفار سے ایک عظیم الشان لڑائی ہوئی ہے تو انہیں اپنے شامل نہ ہونے کا بہت ہی افسوس ہوا اور اس کا ان کی طبیعت پر ایسا اثر ہوا کہ اس کے بعد جب کسی مجلس میں بدر کی جنگ کا ذکر آتا اور وہ سنتے کہ فلاں نے یوں بہادری دکھائی اور فلاں نے اس طرح کام کیا تو وہ سنتے سنتے کہہ اٹھتے اچھا کیا اچھا کیا لیکن اگر میں ہوتا تو بتا تا کہ کس طرح لڑا کرتے ہیں۔لوگ سن کر ہنس دیتے کہ اب اس قسم کی باتوں کا کیا فائدہ مگر ان کا جو جوش تھا نچ نچ کا جوش تھا۔کسی عارضی جذبہ کے ماتحت نہیں تھا بلکہ عشق ومحبت کی وجہ سے وہ کھلے جا رہے تھے اور انہیں یہ غم کھائے جار ہا تھا کہ کاش انہیں بھی خدا کی راہ میں اپنی جان قربان کرنے کا موقع ملے۔آخر خدا تعالیٰ نے احد کی جنگ کا موقع پیدا کر دیا۔اس جنگ میں جب مسلمانوں نے کفار کے لشکر کو شکست دے دی اور ان کی فو جیں پراگندہ ہو گئیں تو ایک درہ تھا جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمی چن کر کھڑے کئے تھے اور حکم دیا تھا کہ خواہ جنگ کی کوئی حالت ہو تم نے اس درہ کو نہیں چھوڑنا۔جب کفار کا لشکر منتشر ہو گیا تو انہوں نے غلطی سے اجتہاد کیا کہ اب ہمارے یہاں ٹھہرے رہنے کا کیا فائدہ ہے۔ہم بھی چلیں اور غنیمت کا مال حاصل کریں۔چنانچہ ان میں سے سات آدمی درہ چھوڑ کر چلے آئے اور صرف تین پیچھے رہ گئے۔ان کے سردار نے انہیں کہا بھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ ہم یہ درہ چھوڑ کر نہ جائیں مگر انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مطلب تو نہ تھا کہ فتح ہو جائے تب بھی یہیں کھڑے رہو۔آپ کے ارشاد کا تو یہ مطلب تھا کہ جب تک جنگ ہوتی رہے یہ درہ نہ چھوڑو۔اب چونکہ فتح ہو چکی ہے اس لئے ہمارے یہاں ٹھہرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔حضرت خالد بن ولید جو اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے، نوجوان تھے اور ان کی نگاہ بہت تیز تھی۔وہ جب اپنے لشکر سمیت بھاگے چلے جا رہے تھے تو اتفاقا انہوں نے پیچھے کی طرف نظر جو ڈالی تو دیکھا کہ درہ خالی ہے اور مسلمان فتح کے بعد مطمئن ہو گئے ہیں۔یہ دیکھتے ہی انہوں نے لشکر میں سے چند آدمی منتخب کئے اور اس درہ کی طرف سے چڑھ کر یکدم مسلمانوں کی پشت پر ردیا۔مسلمانوں کے لئے یہ حملہ چونکہ بالکل غیر متوقع تھا اس لئے ان پر سخت گھبراہٹ طاری ہوگئی اور بوجہ بکھرے ہوئے ہونے کے دشمن کا مقابلہ نہ کر سکے۔اور میدان پر کفار نے قبضہ کر لیا۔یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد صرف بارہ صحابہ رہ گئے جن میں حضرت ابوبکر حضرت عمر، حضرت عثمان، 514