تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 515
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 28 مارچ 1937ء حضرت علی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی تھے اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ بارہ بھی نہیں صرف چند آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد رہ گئے اور کفار نے خاص طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیراندازی شروع کر دی۔صحابہ نے اس وقت سمجھا کہ اب ہماری خاص قربانی کی ضرورت ہے۔چنانچہ حضرت زبیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ کی طرف کھڑے ہو گئے تا اس طرف سے کوئی تیر آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ لگے اور حضرت طلحہ آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اس جگہ جہاں سے تیرگزر کر آتے تھے اپنا ہاتھ رکھ دیا تا کہ تیر ان کے ہاتھ پر لگیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم تک کوئی تیر نہ پہنچ سکے۔اس طرح اور صحابی بھی ارد گرد کھڑے ہو گئے۔چونکہ اس وقت تیروں کی سخت بوچھاڑ ہو رہی تھی اس لئے جس قدر صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد کھڑے تھے وہ گردن سے لے کر زانوؤں تک تیروں سے زخمی ہو گئے اور ایک انچ جگہ بھی ایسی نہ رہی جہاں انہیں تیر نہ لگا ہو اور حضرت طلیہ کا ہاتھ تو تیر لگتے لگتے بالکل شل ہو گیا اور ساری عمر کے لئے ناکارہ ہو گیا۔بعد میں وہ ایک جگہ کسی مجلس میں بیٹھے تھے کہ ایک منافق نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اس ٹنڈے کی یہ بات ہے۔حضرت طلحہ نے یہ سن کر کہا تمہیں پتہ ہے میں کس طرح ٹنڈا ہوا ؟ پھر انہوں نے احد کی جنگ کا قصہ سنایا اور بتایا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے اپنا ہاتھ پھیلائے کھڑا رہا اور جو تیر بھی آیا وہ میں نے اپنے ہاتھ پر لیا۔یہاں تک کہ تیروں کی بوچھاڑ نے اسے مشل کر دیا۔کسی نے کہا آپ اس وقت درد سے کراہتے نہ تھے؟ وہ کہنے لگے میں درد سے کس طرح کراہ سکتا تھا اگر کراہتا تو میرا جسم ہل جاتا اور تیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لگ جاتا۔جب دشمنوں کی تیراندازی بھی رائیگاں گئی تو انہوں نے یکدم ریلہ کر دیا اور وہ بارہ آدمی بھی دھکیلے گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو کر ایک گڑھے میں گر گئے۔آپ پر بعض اور صحابہ جو آپ کی حفاظت کر رہے تھے ، شہید ہو کر گر گئے اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کے لئے نگاہوں سے اوجھل ہو گئے اور لشکر میں یہ افواہ پھیل گئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔یہ سن کر بعض کمز ور تو مدینہ کو واپس چلے گئے کہ وہاں کے لوگوں کو اطلاع دیں اور باقی صحابہ میدانِ جنگ میں گھبرائے گھبرائے پھرنے لگ گئے۔حضرت عمر پر اس خبر کا یہ اثر ہوا کہ آپ ایک چٹان پر بیٹھ کر رونے لگ گئے۔اس وقت بعض صحابہ ایسے بھی تھے جنہیں اس امر کی اطلاع نہ تھی کیونکہ وہ فتح کے بعد ایک طرف ہو گئے تھے اور انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ کفار نے دوبارہ حملہ کر دیا ہے۔انہی میں وہ صحابی بھی تھے جو ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اگر میں جنگ بدر میں شامل ہوتا تو یوں کرتا اور یوں کرتا۔انہیں اس وقت بھوک لگی ہوئی تھی 515