تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 40

خطبہ جمعہ فرموده 23 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول لئے تین سال تک بیت المال میں جمع کرائے۔اس کی صورت یہ ہو کہ جس قدروہ مختلف چندوں میں دیتے ہیں یا دوسرے ثواب کے کاموں پر خرچ کرتے ہیں یا دار الانوار کمیٹی کا حصہ یا حصے انہوں نے لئے ہیں، اخبارات وغیرہ کی قیمتوں کے علاوہ، وہ سب رقم اس حصہ میں سے کاٹ لیں اور باقی رقم اس تحریک کی امانت میں صدر انجمن احمدیہ کے پاس جمع کرا دیں۔مثلاً ایک شخص کی پانچ سوروپیہ آمد ہے اور وہ موصی بھی ہے اور دارالانوار کا ایک حصہ بھی اس نے لیا ہوا ہے وہ دس بارہ روپیہ ماہوار اور ثواب کے کاموں میں بھی خرچ کرتا ہے اس شخص نے 15 دینے کا عہد کر لیا اور یہ سوروپیہ کی رقم ہوئی ، وصیت ایسے شخص کی پچاس ہوئی، دار الانوار کمیٹی کے 25 ہوئے ، چندہ کشمیر اور دوسرے کا رہائے ثواب مثلاً بارہ روپے ہوئے ، یہ کل رقم 87 ہوئی باقی تیرہ روپے ماہوار اس شخص کو انجمن میں اس تحریک کی امانت میں جمع کراتے رہنے چاہئیں اور اگر 1/4 کا عہد کیا تو 13+25 اڑ میں روپیہ جمع کراتے رہنا چاہئے۔عہد کرنے والے شخصوں کو تین سال تک متواتر ایسا کرنا ہوگا۔اس مطالبہ کے ماتحت جو آنا چاہے اسے چاہئے کہ جلد سے جلد مجھے اطلاع دے اور یہ بھی اطلاع دے کہ کس قدر حصہ کا عہد ہے اور چندے وغیرہ نکال کر کس قدر رقم اوسطاً اس کی امانت میں جمع کرانے والی پہنچے گی جسے وہ با قاعدہ جمع کراتا رہے گا۔مقررہ تین سال کے بعد جتنی رقم جمع ہوگی وہ یا تو نقد یا رقم کے برابر جائیداد کی صورت میں اسے واپس دے دی جائے گی۔اس میں یہ بھی فائدہ ہے کہ احتیاط اور کفایت کے ساتھ دوست خرچ کریں گے اور بچت کر سکیں گے۔بعد میں وہ تمام کی تمام رقم انہیں واپس مل جائے گی مگر اس رقم میں آنے شامل نہیں ہوں گے۔مثلاً جس شخص کے ذمہ پچاس روپیہ آٹھ آنے بنتے ہیں وہ یا تو پچاس روپیہ یا اکاون۔طالب علم بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں اور اپنے خرچ میں سے ایک روپیہ بچا کر بھی جمع کرا سکتے ہیں۔یہ ضروری شرط ہے کہ آنے اس میں نہیں لئے جائیں گے۔پس ایسی صورت میں کہ اس تجویز میں طالب علم ، عورتیں، مرد سب شامل ہو سکتے ہیں ، آسانی کے ساتھ اس میں دو ہزار آدمی حصہ لے سکتے ہیں اور اوسط آمد ایک آدمی کی اگر پانچ روپیہ ماہوار بھی رکھ لی جائے تو ہر ماہ میں دس ہزار کی امانت داخل ہو سکتی ہے جو تین سال میں چار لاکھ کے قریب ہو سکتی ہے۔تین سال کے بعد یہ روپیہ نقد یا اتنی ہی جائیداد کی صورت میں واپس کر دیا جائے گا۔جو کمیٹی میں اس رقم کی حفاظت کے لئے مقرر کروں گا اس کا فرض ہوگا کہ ہر شخص پر ثابت کرے کہ اگر کسی کو جائیداد کی صورت میں روپیہ واپس کیا جارہا ہے تو وہ جائیداد فی الواقع اس رقم میں خریدی گئی ہے۔اس سب کمیٹی کے ممبر علاوہ میرے 40