تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 505
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از تقریر فرمود 28 مارچ 1937ء قائم کر لیتا ہے لیکن اس موجودہ اعتراض پر تو وہی مثال صادق آتی ہے جیسے پنجابی میں کہتے ہیں کہ نرالون ہی کنھیا ہے۔سب جھوٹ ہی جھوٹ ہے اور اسمیں کچھ سچائی نہیں۔کیونکہ معترضہ یہ کہتی ہے کہ اس نے مجھے سات کھانے کھاتے ہوئے دیکھا۔ایک دفعہ ایک دوست نے کسی شخص کا یہ اعتراض مجھے پہنچایا کہ انہوں نے اپنی لڑکی کی شادی پر ۲۷ ہزار روپے کا زیور دیا ہے۔میں نے کہا وہ شادی میں نے تحریک جدید سے پہلے کی تھی اس لئے اگر اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دیتا اور میرے پاس مثلاً کروڑ روپیہ ہوتا اور میں اس میں سے ۲۷ ہزار کے زیور بنادیتا تو اس میں کوئی حرج نہ تھا۔لیکن میں نے تو ۲۷ ہزار کے زیور پہنائے ہی نہیں اور اگر اسے اصرار ہو تو وہ میرے ساتھ شرط کر لے۔جتنے زیور میں نے پہنائے ہیں وہ میں اسے دے دوں گا اور ۲۷ ہزار میں سے ۲۷ سو روپیہ ہی وہ مجھے دے دے۔مجھے اس میں بھی کثیر فائدہ رہے گا کیونکہ وہ زیور اس سے بھی بہت کم قیمت کا تھا۔اسی طرح ایک دفعہ ایک شخص نے کہا کہ جلسے پر جب لوگ آتے ہیں تو پچیس ہزار کے قریب روپیہ انہیں صرف نذرانوں سے حاصل ہوتا ہے۔میں نے اسے کہا کہ تم اس کا دسواں حصہ مجھے دے دیا کرو اور جلسہ پر جس قدر نذرانہ آئے وہ تم اٹھاتے چلے جاؤ۔پھر خود ہی دیکھ لینا کہ کس کو زیادہ فائدہ رہتا ہے۔غرض بعض دفعہ لوگ اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ اس کی کوئی حد ہی نہیں ہوتی۔ایک شخص تھا وہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے بخاری خرید دیجئے۔آپ نے فرمایا میرے پاس روپیہ ہے نہیں۔وہ کہنے لگا بھلا آپ کے پاس روپیہ نہ ہو یہ میں کس طرح مان لوں۔آپ صاف طور پر یہی کیوں نہیں کہہ دیتے کہ میں خرید کر نہیں دیتا۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا میرے پاس روپیہ ہوتا تو خرید دیتا۔ہے نہیں تو کس طرح خرید دوں۔وہ کہنے لگا یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ جماعت کی تعداد اس وقت دس لاکھ ہے۔اگر ہر شخص چار چار آنے سالانہ بھی آپ کو نذرانہ دیتا ہو تو اڑھائی لاکھ روپیہ سالانہ آپ کے پاس جمع ہو جاتا ہے۔اور پھر آپ کہتے ہیں کہ کچھ نہیں۔حضرت خلیفہ اول کی عادت تھی کہ اگر سمجھانے کے لئے سختی کی ضرورت ہوتی تو اس سے دریغ نہ کرتے۔آپ نے یہ سن کر فرمایا اتنی بے شرمی ! آپ ہی بتائیں۔آپ نے مجھے اتنے سالوں میں کتنی چونیاں دی ہیں؟ تو کئی لوگ ایسے اعتراض کر دیتے ہیں جن میں ذرہ بھر بھی سچائی نہیں ہوتی۔غرض میں نے متواتر توجہ دلائی ہے کہ تحریک جدید کے مطالبات کو پورا کرو۔خصوصاً اس کا سولہواں مطالبہ ایسا ہے جس کی طرف جماعت کو زیادہ توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔مگر میں نے دیکھا ہے قادیان میں اس مطالبہ کے ماتحت چند دن کام کیا گیا پھر میں تبدیل آب و ہوا کے لئے پہاڑ پر چلا گیا تو 505