تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 504
اقتباس از تقریر فرموده 28 مارچ 1937 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ہیں اس لئے ممکن ہے دو سالوں میں چھ سات دفعہ میں نے ان تحفوں میں سے کسی ایک کو تحفہ لانے والے کی دلداری کے طور پر چکھ لیا ہو۔یہ اگر دوسرا کھانا کہلا سکتا ہے تو ایسا دوسرا کھانا چھ سات دفعہ دو سالوں میں میرے استعمال میں ضرور آیا ہے، اس سے زیادہ نہیں اور سات کھانے تو کبھی استعمال میں ہی نہیں آئے۔اس قسم کے اعتراض بہت دفعہ بدظنی سے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔مثلاً دستر خوان پر پانچ چھ آدمیوں نے بیٹھنا ہو، ایک دومریض ہوں جن کے لئے پر ہیزی کھانا پکا ہو، ایک کھانا باقی لوگوں والا ہو اور اتفاقاً کوئی شخص تحفہ لے آیا وہ بھی دستر خوان پر چنا گیا۔اب دیکھنے والا اگر تقویٰ سے کام نہ لے تو سمجھے گا کہ چار کھانے رکھے ہیں۔حالانکہ ان میں سے تین تو الگ الگ لوگوں کے لئے ہیں اور چوتھا تحفہ ہے جسے یا تو گھر کا کھانا چھوڑ کر کوئی شخص کھائے گا یا پھر صرف چکھ لے گا کہ دوسرے کا دل میلا نہ ہو۔اسی قسم کی بدظنی کا واقعہ مجھ سے ایسا گزرا ہے کہ وہ مجھے ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ایک دفعہ ایک دوست میرے پاس آئے اور کہنے لگے میری بیوی پہلی دفعہ قادیان آئی تھی۔اسے آپ کے گھر آکر بہت بڑا ابتلا آ گیا۔میں نے پوچھا کیا بات ہوئی ؟ وہ ہے تو عورتوں کے متعلق بات لیکن چونکہ مسئلہ بیان کرنا پڑتا ہے اس لئے بعض دفعہ ایسی باتیں بھی بیان کرنی پڑتی ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ ایک عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مسئلہ پوچھا جو عورتوں سے تعلق رکھتا تھا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تو نے عورتوں کی لٹیاڈ بودی۔مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا دین کے مسائل پوچھنے اور بیان کرنے میں کوئی شرم کی بات نہیں، تو بعض دفعہ اس قسم کی باتیں بھی بیان کرنی پڑتی ہیں۔خیر جب میں نے اس سے دریافت کیا کہ کیا ابتلاء آیا ہے تو اس نے بتایا کہ میری بیوی نے دیکھا ہے کہ آپ کے گھر کی مستورات نماز نہیں پڑھتیں۔میں نے کہا ممکن ہے جس کے متعلق آپ کی بیوی کو شبہ پڑا ہوا نہیں ماہواری ایام آئے ہوئے ہوں۔وہ کہنے لگے کہ میں نے اپنی بیوی سے یہ کہا تھا مگر اس نے کہا کہ آپ کی دونوں بیویوں نے نماز نہیں پڑھی اور نہ آپ کی جوان بیٹی نے۔میں نے کہا شاید انہوں نے الگ پڑھ لی ہو۔انہوں نے کہا کہ نماز کے وقت ساتھ رہی ہے اور اسے یقین ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔گو یہ دعویٰ ان کا تو باطل تھا کہ اس نے ایسی نگرانی کی ہو مگر پھر بھی میں نے احتیاطا گھر میں دریافت کیا۔ایک بیوی سے معلوم ہوا کہ ان کو اور لڑکی کو انہی دنوں میں نماز جائز نہ تھی۔دوسری بیوی سے بھی یہی امر معلوم ہوا۔اب یہ ایک اتفاق ہے کہ ایک ہی وقت میں تینوں کے لئے نماز ترک کرنی ضروری تھی۔مگر ایسے اتفاق بھی ہو جاتے ہیں۔اگر وہ عورت بدظنی سے کام نہ لیتی تو اس کے لئے ابتلاء کی کوئی بات نہ تھی۔تو بعض دفعہ اس طرح بھی غلطی ہو جاتی ہے۔نیا آدمی ہوتا ہے اور وہ اپنے دل میں ایک قیاس کر کے اعتراض 504