تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 506

اقتباس از تقریر فرموده 28 مارچ 1937ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔۔جلد اول امور عامہ نے خیال کر لیا کہ یہ مطالبہ میری موجودگی میں ہی قابل عمل تھا، اس کے بعد نہیں۔پہاڑ سے واپس ہوئے تو حضرت ام المؤمنین پر فالج کا حملہ ہو گیا اور ادھر مصروفیت رہی۔پھر سندھ کی طرف جانا پڑا۔اس کے بعد میں خود بیمار ہو گیا اور پھر الیکشن کے کام میں مصروف رہنا پڑا۔اس وجہ سے میں نگرانی نہ کر سکا۔لیکن مجھ پر اثر یہی ہے کہ اب کوئی کام نہیں ہو رہا۔انہوں نے غالباً سمجھا ہے کہ چھ مہینے ہم نے ایک شغل اختیار کر لیا ہے اب اسے مستقل طور پر جاری رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔حالانکہ یہی وہ چیزیں ہیں جولوگوں پر برا اثر ڈالتی ہیں۔میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑا کام کرنے والا ہوں، رات کو بھی یہاں سے گیا تو پڑھتا رہا اور جب سونے لگا تو اس وقت دو بج چکے تھے لیکن باوجود اس کے کچھ عرصہ سے کام اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ ڈاک بعض دفعہ دفتر میں بھیج دیتا ہوں کہ اس کا خلاصہ میرے سامنے پیش کیا جائے۔پھر بھی میرے جیسا آدمی نہیں کہہ سکتا کہ ہفتے میں وہ اس کام کے لئے کوئی وقت نہیں نکال سکتا۔پھر میں کس طرح مان سکتا ہوں کہ دوسرے لوگ جن کے اوقات اتنے مصروف نہیں ، وہ ہفتہ میں دو چار گھنٹے اس کام کے لئے نہیں نکال سکتے۔اور کیا وجہ ہے کہ ایک کام کو جاری کر کے اسے چھوڑ دیا جائے۔ہماری گلیوں کو دیکھو راستوں میں پاخانہ پھرا ہوا ہوتا ہے۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کوئی راستہ میں پاخانہ پھرتا ہے تو اس پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے۔دوسری طرف آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص راہ سے کانٹے کے اینٹیں اور دوسری ایذا دینے والی چیزیں ہٹاتا ہے تو ہر کام کے بدلہ میں اس کی ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رستوں میں گند پھینکنے کا نام لعنت اور صفائی کرنے کا نام نیکی رکھا ہے۔اب اگر کوئی بادشاہ بھی ہو اور وہ رستوں کی صفائی کرے تو کتنی نیکیاں ہیں جو مفت میں اسے مل سکتی ہیں۔مگر یہاں تو ابھی بہت چھوٹے پیمانے پر کام شروع کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ہفتہ میں ایک گھنٹہ کام کیا جائے۔اگر قادیان کے لوگ اس کام کو جاری رکھتے تو میں باہر سے آنے والوں کو ملامت کر سکتا۔مگر مجھے افسوس ہے کہ قادیان والوں نے بھی چند دن اس مطالبہ کے ماتحت کام کر کے چھوڑ دیا۔میں نے دیکھا ہے جب پہلے دن میں نے کسی پکڑی اور مٹی کی ٹوکری اٹھائی تو کئی مخلصین ایسے تھے جو کانپ رہے تھے اور وہ دوڑے دوڑے آتے اور کہتے حضور تکلیف نہ کریں، ہم کام کرتے ہیں اور وہ میرے ہاتھ سے کسی اور ٹوکری لینے کی کوشش کرتے۔لیکن جب چند دن میں نے ان کے ساتھ مل کر کام کیا تو پھر وہ عادی ہو گئے اور وہ سمجھنے لگے کہ یہ ایک مشترکہ کام ہے جو ہم بھی کر رہے ہیں اور یہ بھی کر رہے ہیں۔تو اس طرح کام کرنے کے نتیجہ میں اخلاق کی درستی ہوتی ہے اور قوم کا معیار بلند ہوتا ہے۔اگر ہفتہ میں ایک دفعہ ایسے مفت کے مزد و مل جائیں 506