تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 498
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 دسمبر 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول صحابہ کو دیکھو۔وہ بعض اوقات ضرورت سے زیادہ سزا برداشت کرتے تھے اور خود بخود کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک صحابی سے کوئی غلطی ہوگئی تو انہوں نے مسجد میں جا کر اپنے آپ کو ستون سے باندھ لیا اور کہا کہ جب تک اللہ تعالیٰ مجھے معاف نہ کر دے میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا مگر ایسا کرنے کیلئے بھی ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔کئی وہمی آدمی ہوتے ہیں جو ایسی بات سن کر فوراً اچھل پڑتے ہیں کہ بہت اچھا گر مل گیا ہے۔آئندہ اگر ہم سے کبھی کوئی غلطی ہوئی تو ہم بھی اسی طرح کریں گے مگر جو اپنے آپ کو باندھتا اور پھر ادھر ادھر دیکھتا ہے کہ کوئی آئے اور مجھے چھڑائے وہ بھی دھوکا خوردہ ہے۔اس کی مثال تو ایسی ہی ہے جیسے کانگرسی قانون شکنی کرتے اور پھر کہتے ہیں کہ گورنمنٹ ہمیں گرفتار کیوں کرتی ہے۔اس صحابی رضی اللہ عنہ نے تو اپنی نیست پوری کر دی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ جائز نہیں۔لیکن بہر حال سزا برداشت کرنا قومی زندگی کیلئے بہت اہم چیز ہے۔ایک شخص کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سزادی کہ یہ ہماری مجلس میں کبھی نہ آئے اور وہ ساری عمر نہ آسکا۔اسی طرح حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو سزا دی کہ ہمارے زمانہ میں کبھی مدینہ میں نہ آئے۔چنانچہ وہ نہیں آیا مگر کام اسی قربانی سے کرتا رہا۔تو سزا کا برداشت کرنا ہر مومن کیلئے ضروری ہے۔خاص کر وقف زندگی کی صورت میں تو بہت ہی ضروری ہے۔جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اسے سزا دی ہی نہ جائے۔خواہ کچھ ہو۔وہ گویا چاہتا ہے کہ ہر حال میں اس کا لحاظ کیا جائے اور اس کیلئے دوسروں کو تباہ کر دیا جائے۔پس وقف کرنے والوں کیلئے ان پانچوں اوصاف کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سزا برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں اور بعد میں یہ نہ کہیں کہ اس وقت ہمیں نوکری مل سکتی تھی۔یونہی ہمارے دو سال ضائع کئے گئے۔پس وہی آگے آئے جس کی نیت یہ ہو کہ میں پوری کوشش کروں گا لیکن اگر نکھا ثابت ہوں تو سزا بھی بخوشی برداشت کر لوں گا۔میں پھر ایک بار دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ ثواب کا ایک نہایت اہم موقع ہے۔انگریزی دان اور عربی دان دونوں قسم کے نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں۔انٹرنس پاس یا اس سے اوپر یا گریجوایٹ انگریزی دان اور مولوی فاضل یا بعض ایسے جو اگرچہ مولوی فاضل کی ڈگری تو نہ رکھتے ہوں مگر عربی میں اچھی استعداد ہو اپنے آپ کو پیش کر سکتے ہیں۔انتخاب کرنے کا اختیار تو ہمارا ہے مگر جو اپنے آپ کو پیش کریں وہ محنت اور قربانی کیلئے تیار ہو کر اوراللہ تعالیٰ کی رضا کے سوا اور ہر طرف سے آنکھیں بند کر کے اپنے آپ کو پیش کریں اور اپنے سامنے ایک ہی مقصود یعنی اشاعت اسلام رکھیں اور اس بات کے لئے بھی تیار ہوں کہ اگر بھی وہ نظام کیلئے موزوں ثابت نہ ہوں تو بے شک ان کو الگ کر دیا جائے۔خواہ دنیوی لحاظ سے ان کو کیسا بھی نقصان کیوں نہ پہنچ چکا ہو۔498