تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 497

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 17 دسمبر 1937ء گیا کہ زاہد بہتر ہے یا عاقل۔آپ نے فرمایا عاقل کئی گنا زیادہ بہتر ہے، کیونکہ زاہد تو صرف اپنی ذات کو ہی فائدہ پہنچاتا ہے مگر عاقل دوسروں کو بھی۔بعض لوگوں نے کتابیں تو رٹی ہوئی ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ علم کو استعمال کہاں کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔قابلیت سے میری مراد در اصل علم ہے جس سے کام اور اس کے کرنے کا طریق معلوم ہوتا ہے اور عقل اس علم کے استعمال کا محل بتاتی ہے اور اخلاص استقلال اور مداومت سے سے عقل کو کام پر لگائے رکھتا ہے۔جب یہ چیزیں جمع ہو جا ئیں اور پھر ساتھ محنت کی عادت اور اطاعت کا جذ بہ ہو تو پھر کامیابی ہی کامیابی ہوتی ہے لیکن ان کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔میں نے دیکھا ہے کہ تحریک جدید کے تمام کاموں سے زیادہ وقتیں تحریک جدید کے بورڈنگ میں پیش آئی ہیں۔اتفاق سے ہمیں وہاں کام کرنے کیلئے ایسے آدمی ملے جنہوں نے محنت سے کام نہ کیا یا عقل سے نہ کیا اور یہ نہ سمجھا کہ اس کا مقصد کیا ہے اور میں کیا چاہتا ہوں۔ان کی مثال ” من چہ سرائم وطنبورہ من چدے سرائید کی تھی۔اگر وہ ذمہ داری کا احساس کرتے اور خیال کرتے کہ لوگوں کے کام تو اس زمانہ میں نتائج پیدا کریں گے اور ہمارے آئندہ زمانہ میں جا کر۔تو یہ حالت نہ ہوتی مگر انہوں نے نہ خود کام کو سمجھا اور نہ ہی طالب علموں کی ذہنیت میں مناسب تبدیلی پیدا کی۔حتی کہ ان کو بتایا بھی نہیں گیا کہ ان کو یہاں کیوں جمع کیا گیا ہے۔پس محض وقف سے کام نہیں بنتا۔ایسے وقف سے کام بنتا ہے کہ انسان محنت مشقت ، قربانی اور اطاعت سے کام کرنے کے لئے تیار ہو۔تحریک جدید کے بورڈنگ کا کام ہی ایسا کام ہے کہ میں سمجھتا ہوں اگر ہم اس میں کامیاب ہو جاتے تو ایک ایسا انقلاب پیدا کر دیتے جس کی قیمت اور عظمت کا اندازہ الفاظ میں نہیں کیا جا سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر مجھے چالیس خالص مومن مل جائیں تو میں ساری دنیا کو فتح کر سکتا ہوں اور اس قسم کے بورڈنگ میں موقع ہے کہ ایک زمانہ میں ایسے سوسو مومن پیدا کر سکیں۔پس آئندہ جو لوگ اپنے آپ کو وقف کریں وہ یہ سمجھ کر کریں کہ اپنے آپ کو نا سمجھیں گے اور جس کام پر ان کو لگایا جائے گا اس پر محنت، اخلاص اور عقل و علم سے کام کریں گے۔عقل اور علم کا اندازہ کرنا تو ہمارا کام ہے مگر محنت ، اخلاص اور اطاعت سے کام کا ارادہ ان کو کرنا چاہئے اور دوسرے یہ بھی خیال کر لینا چاہئے کہ وقف کے یہ معنی نہیں کہ وہ خواہ کام کیلئے موزوں ثابت ہوں یا نہ ہوں ہم ان کو علیحدہ نہیں کریں گے یا سزا نہیں دیں گے۔صرف وہی اپنے آپ کو پیش کریں جو سزا کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں۔جن قوموں کے افراد میں سزا برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہوتی وہ ہمیشہ ہلاک ہی ہوا کرتی 497