تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 472

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 نومبر 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول سے مجھے اپنا استاد تسلیم کرتے ہو۔مگر جب کوئی کام تمہارے سپرد کیا جاتا ہے تو تم بہانے بنانے لگ جاتے ہو۔اس دھوکا اور فریب کا کیا فائدہ۔کیا تم خدا کو دھوکا دینا چاہتے ہو اور سمجھتے ہو کہ اسے تمہارے اعمال کا علم نہیں۔تمہاری فطرت اور تمہارا دماغ کہتا ہے کہ احمدیت کے بغیر تمہاری نجات نہیں مگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں نجات بھی مل جائے اور تم دل سے غیر احمدی کے غیر احمدی بھی بنے رہو۔کوئی انسان کسی دوسرے عقل مند انسان کو بھی دھوکا نہیں دے سکتا۔پھر تم کس طرح خیال کر لیتے ہو کہ تم خدا کو دھوکا دے لو گے۔یہی وہ احساس ہے جس کے ماتحت میں نے تحریک جدید کا آغاز کیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ اب اس قسم کے کمزور لوگوں کو احمد بیت میں رہ کر جماعت کو بدنام کرتے ہیں زیادہ مہلت نہیں دی جاسکتی۔میں جماعت کو اسی امر کی طرف لا رہا ہوں اور میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کو اس پر ثبات حاصل ہو جائے گا۔مگر اس احساس کے باوجود میں پھر بھی مہلت دے دے کر تمہیں لا رہا ہوں تا کہ تم پر بوجھ نہ پڑے اور تم یکدم گھبرا نہ جاؤ۔میں جانتا ہوں کہ میرے اس ارادہ کی لازماً مخالفت ہو گی اور نہ صرف میری مخالفت ہوگی بلکہ ہر شخص جو میرے ساتھ تعاون کرے گا۔ہر شخص جو قانون کے دائرہ کے اندر اسلامی حکومت قائم کرنا چاہے گا اس کی بھی مخالفت ہو گی۔لوگ برا منائیں گے۔وہ گالیاں دیں گے۔وہ بد نام کریں گے، وہ عیب چینی کریں گے اور بجائے اس کے کہ اصل حقیقت بیان کریں غلط واقعات بیان کر کے لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنا چاہیں گے۔مثلاً وہ یہ نہیں کہیں گے کہ انہوں نے شریعت کا فلاں قانون توڑا تھا جس کی انہیں سزا ملی یا غیر احمد یوں کو انہوں نے لڑکی دی تھی جس کی سزا ملی۔وہ کہیں گے کہ ناظر امور عامہ نے مجھ پر ظلم کیا اور پھر یہ بتائیں گے نہیں کہ کیوں ظلم کیا اور کیا ظلم کیا۔پھر یہ اگر کسی کو واقعہ کا کچھ علم ہوگا اور وہ اشارہ کہہ دے گا کہ لڑکی کا کیا واقعہ تھا تو وہ کہہ دیں گے کہ اصل بات یہ نہیں۔بات اصل میں یہ ہے کہ ناظر امور عامہ کی میرے ساتھ لڑائی ہے اور خواہ مخواہ مجھے دق کرتا ہے۔غرض وہ اس طرح لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے لگ جائیں گے اور لوگ یہ نہیں سمجھیں گے کہ یہ بہانے بناتا ہے اور اپنے جرم کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔تم کبھی نہیں دیکھو گے کہ کوئی چور کہے کہ بھائیو آؤ اور آنسو بہاؤ کہ میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا ہوں۔وہ یہی کہتا ہے کہ لوگوں کی مجھ سے دشمنی تھی۔فلاں جگہ میں بیٹھا تھا کہ انہوں نے گھاس کاٹ کر میری جھولی میں ڈال دیا اور مجھے چور چور کہہ کر پکڑوا دیا۔وہ کیوں ایسا کہے گا اور اصل حقیقت بیان نہیں کرے گا۔اسلئے کہ سچ بولنے سے اسے لوگوں کی ہمدردی حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔مگر جھوٹ بول کر وہ سمجھتا ہے کہ اسے لوگوں کی ہمدردی حاصل ہو جائے گی۔تو یہ دنیا کا عام دستور ہے اور ہر ملک اور ہر شہر۔ہر قصبہ اور ہر گاؤں اور ہر محلہ 472