تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 471

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 نومبر 1937ء تک ہم صرف نام کے احمدی ہیں۔کام کے احمدی نہیں۔مگر صرف نام لے لینے سے کیا بنتا ہے جب تک انسان کے اندر وہ حقیقت بھی نہ پائی جاتی ہو جو اس نام کے اندر ہو۔مجھے یاد ہے کہ ہماری بہن امتہ الحفیظ دو اڑھائی سال کی تھی کہ ہمارے ہاں ایک مہمان آئے۔ان کی بھی ایک ہی چھوٹی سی لڑکی تھی جو قریباً اسی عمر کی تھی۔اس کی آنکھیں چندھیائی ہوئی تھیں اور روشنی میں چونکہ نہیں کھلتی تھیں اس لئے وہ بجھتی تھی کہ شاید اور لوگوں کو بھی میری طرح دن میں نظر نہیں آتا۔امتہ الحفیظ کبھی کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے جا کر کہا کرتی تھی کہ ابا مجھے بیجھی دو اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسے کوئی چیز کھانے کی دے دیا کرتے تھے۔اس لڑکی نے جو اسے اس طرح مانگتے دیکھا تو ایک دن خود بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے جا کر ہاتھ پھیلا کر کہنے لگی۔حضرت صاحب میں بھیجی (امتہ الحفیظ ) ہوں مجھے بیجی دے دیں۔یہی مثال تم میں سے بہتوں کی ہے۔تم بھی اسی خیال میں مست ہو کہ تم خدا کے سامنے جا کر کہہ دو گے کہ ہم مسلمان یا احمدی ہیں ہمیں انعام دو اور اسے (معاذ اللہ ) کوئی علم نہیں ہوگا کہ تم کیا کرتے رہے ہو اور آیا تم انعام کے مستحق بھی ہو یا نہیں۔غرض اگر تم سچے دل سے لا الہ الا اللہ کہہ رہے ہو تو تمہارا فرض ہے کہ تم اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی حکومت قائم کرو لیکن اب تو تمہاری یہ حالت ہے کہ جو شخص تم میں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے تم اس کے دشمن ہو جاتے ہو۔کوئی تم میں سے اس پر اعتراض کرتا ہے۔کوئی تم میں سے اسے گالیاں دیتا ہے۔کوئی تم میں سے اس پر الزام لگاتا ہے۔کوئی تم میں سے اس کے خلاف شکوہ و شکایت کرتا ہے اور ان تمام اتہاموں اور ان تمام الزاموں ، ان تمام اعتراضوں اور ان تمام نکتہ چینیوں کی وجہ محض یہ ہے کہ وہ تم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ آؤ اور سچے مسلمان بن جاؤ۔آؤ اور بچے احمدی بن جاؤ۔لوگ کہتے ہیں یہاں تختی کی جاتی ہے مگر میں کہتا ہوں کہ کس بات پر ؟ تم وہ باتیں نکا لوجن کی بناء پر تم کہتے ہو کہ تم سے سختی کی جاتی ہے پھر تمہیں معلوم ہو گا کہ کس بات پر سختی کی جاتی ہے۔تم پر اس وجہ سے سختی کی جاتی ہے کہ تم میں سے بعض اپنی لڑکیاں غیر احمدیوں کو دے دیتے ہیں مگر اس سے مجھے ذاتی طور پر کوئی فائدہ ہے ؟ تم میرے پاس آتے ہو اور اپنے منہ سے کہتے ہو کہ ہم احمدیت کا جوا اٹھانے کیلئے تیار ہیں۔میں تمہاری بیعت لیتا ہوں اور تم احمدیت میں شامل ہو جاتے ہو۔اس کے بعد تمہارے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ تم احمدیت کی تعلیم پر عمل کرو اگر تم اس کی تعلیم پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں تو میں تمہیں کہتا ہوں کہ منافق مت بنو یا تم پورے احمد کی بن جاؤ یا احمدیت سے الگ ہو جاؤ مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ تم آپ میرے پاس آتے اور احمد بیت کو قبول کرتے ہو تم پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔تم سے کوئی زبردستی نہیں کی جاتی۔تم اپنی رضاء ورغبت 471