تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 34

خطبہ جمعہ فرمودہ 23 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول کہ خطرے کے حالات میں اللہ تعالیٰ بھی اپنا حق چھوڑ دیتا ہے۔پھر بندوں کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ خطرہ کی حالت میں اپنا حق چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوں؟ پس اصول یہ ہیں کہ: (1) ہر حالت میں غریب اور امیر کو ایک سطح پر لانے کی کوشش نہ کرو اس سے نظام انسانیت بدل جاتا ہے، (2) آسودہ حال لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اموال کا ایک حصہ غربا کیلئے اور ایک حصہ دین کے لئے وقف کریں۔گو ہماری جماعت میں لکھ پتی اور کروڑ پتی لوگ نہیں مگر جو لوگ کھاتے پیتے ہیں وہ ہمارے معیار زندگی کے مطابق آسودہ حال ہیں۔چونکہ اس وقت ہمارا سلسلہ خاص حالات میں سے گزر رہا ہے اس لئے جو لوگ عام حالات میں آسودگی سے رہتے ہیں وہ اس امر کا ثبوت دیں کہ پہلے وہ اگر کھاتے پیتے تھے تو خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اور خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت جب قربانی کے لئے انہیں بلایا گیا تو انہوں نے سب کچھ چھوڑ دیا اگر وہ ایسا کر دیں گے تو ثابت ہو جائے گا کہ غربا کا ان پر جو یہ اعتراض تھا کہ وہ عیاشی کے ماتحت کھاتے پیتے اور پہنتے تھے وہ غلط تھا، وہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کھاتے پیتے تھے جب اس کا حکم اس کے خلیفہ کے ذریعہ سے اپنی حالت بدلنے کے متعلق ملا تو انہوں نے اپنی حالت کو بدل دیا۔اس اصل کے بیان کرنے کے بعد اب میں پہلا مطالبہ کرتا ہوں اور تین سال کے لئے جماعت کے مخلصوں کو بلاتا ہوں کہ جو ان شرائط پر عمل کر سکتے ہوں اور جو سمجھتے ہوں کہ وہ ان شرائط کے ماتحت آ سکتے ہیں وہ کھانے پینے ، پہنے، رہائش اور زیبائش میں ایسا تغیر کریں کہ قربانی کے لئے آسانی سے تیار ہوسکیں اور اس کے لئے میں بعض باتیں پیش کرتا ہوں۔پہلی بات یہ ہے کہ کھانے میں سادگی پیدا کی جائے۔اس کے لئے ایک اصل ہمیں شریعت سے ملتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ خوف و خطرات کا زمانہ تھا اُس وقت جو آپ نے مسلمانوں کو احکام دیئے تھے ہم ان سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔آپ کا اپنا طریق بھی یہ تھا اور ہدایت بھی آپ نے یہ کر رکھی تھی کہ ایک سے زیادہ سالن استعمال نہ کیا جائے اور اس پر اتنا زور دیتے تھے کہ بعض صحابہ نے اس میں غلو کر لیا۔چنانچہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے سرکہ اور نمک رکھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ دو کھانے کیوں رکھے گئے ہیں جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک کھانے کا حکم دیا ہے؟ آ 34