تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 33

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اؤل خطبہ جمعہ فرمودہ 23 نومبر 1934ء پس ہر زمانہ کے لئے قربانی الگ الگ ہوتی ہے۔بعض لوگ نادانی سے یہ اعتراض کر دیتے ہیں۔کہ جماعت میں امرا اچھا کھانا کھاتے اور اچھا لباس پہنتے ہیں مگر یہ خیال نہیں کرتے کہ اسلام کی یہ تعلیم نہیں کہ ہمیشہ ہی اچھا کھانا نہ کھایا جائے یا اچھے کپڑے نہ پہنے جائیں بلکہ اصول یہ ہے کہ جب امام آواز دے اس وقت اس کی آواز کے مطابق قربانی کی جائے۔اس وقت جو شخص اس قربانی کے لئے ماحول پیدا نہیں کرتا وہ اسراف کرتا ہے اور قابل مواخذہ ہے۔پس ایک اسراف عام حالات کے ماتحت ہے اور ایک خاص حالات کے ماتحت۔جو لوگ چاہتے ہیں کہ امیر اور غریب ہمیشہ ایک ہی سطح پر رہیں۔وہ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِثْةُ (الضحی : 11) کے خلاف عمل کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی سب ایک سطح پر نہیں تھے۔جنگ صلى الله تبوک کے موقع پر ابو موسیٰ اشعری رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ ! ہمارے لئے سواری کی ضرورت ہے۔آپ نے فرمایا میرے پاس سواری نہیں ہے۔انہوں نے پھر کہا مگر آپ نے پھر یہی جواب دیا کہ میرے پاس نہیں ہے۔حالانکہ آپ ﷺ کے پاس اپنے لئے سواری تھی اور آپ متبوک کی طرف سواری پر ہی گئے تھے۔اسی طرح بعض صحابہ اچھے کھانے کھاتے تھے اور بعض کو کئی کئی فاقے ہوتے تھے تو سب کو ہمیشہ برابر نہیں کیا جاسکتا۔قربانی کے اوقات میں امام جو ہدایت کرے اس کے مطابق عمل کرنا ہر ایک کا فرض ہوتا ہے جیسے اب ہم کہتے ہیں کہ غربا یہ قربانی نہیں کر سکتے آسودہ حال لوگ کریں تو ان پر اس کی تعمیل فرض ہوگئی۔اب جو یہ قربانی نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک مستوجب سزا ہے اور اس وقت میں جو مطالبہ کر رہا ہوں وہ اسی اصول کے ماتحت ہے۔اسی طرح جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ دین کے بارہ میں امرا کو سادگی کی تعلیم بھی نہ دی جائے وہ بھی غلطی پر ہیں۔بے شک روپیہ امرا کا اپنا ہے لیکن اسلام کے امرا اور دوسرے امرا میں ضرور فرق چاہئے۔مثلاً اسلام کے امرا کو غربا کے لئے خرچ کرنا چاہئے اور اسلام کے لئے بھی۔پس اس جنگ میں میرے مخاطب آسودہ حال لوگ ہوں گے اور انہیں اپنے حق چھوڑنے پڑیں گے۔جنگ کی حالت میں خدا تعالیٰ بھی اپنے حق چھوڑ دیتا ہے۔جنگ کی حالت ہو تو حکم ہے کہ آدھے لوگ ایک رکعت نماز پڑھ لیں اور آدھے حفاظت کے لئے کھڑے رہیں ان کے بعد ان کی جگہ دوسرے آجائیں گویا صرف ایک رکعت نماز کردی۔پھر بعض حالتوں میں قصر یعنی جلدی جلدی نماز پڑھنے کی اجازت ہے اور خطرے کی حالت میں گھوڑے کی پیٹھ پر اشارے سے نماز پڑھ لینا جائز ہے جو اس بات کا ثبوت ہے 33