تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 32
خطبہ جمعہ فرمود 23 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول یعنی جوں جوں اللہ تعالیٰ کی نعمت ملے اسے ظاہر کیا جائے۔خدا تعالیٰ اگر مال دیتا ہے تو جسم کے لباس سے اسے ظاہر کرے اور تحدیث نعمت کرے۔اس کے استعمال سے اللہ تعالیٰ کا شکر یہ ادا کرے۔دوسری تیسری ہدایت یہ دی۔كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا یعنی کھاؤ پیونگر اسراف نہ کرو یعنی جب معلوم ہو کہ کھانا پینا حد سے آگے بڑھ گیا ہے تو چھوڑ دو یا یہ کہ جب زمانہ زیادہ قربانی کا مطالبہ کرے تو اس وقت فورا اپنے خرچ میں کمی کر دو۔اسراف بھی دو طرح کا ہوتا ہے، ایک شخص کی آمد ایک ہزار یا دوتین ہزار روپے ماہوار ہے اس کے گھر میں اگر چار پانچ کھانے پکتے ہوں یا پندرہ میں روپے گز کا کپڑا وہ پہنتا ہے یا آٹھ دس سوٹ تیار کر لیتا ہے تو اس کے مالی حالات کے مطابق اُسے ہم اسراف نہیں کہہ سکتے لیکن اگر اس کے بیوی بچے بیمار ہو جائیں اور وہ ایسے ڈاکٹروں سے علاج کرائے جو قیمتی ادویات استعمال کرائیں اور اس طرح ہزار میں سے نو سور و پیہ اس کا دوائیوں پر خرچ ہو جائے لیکن کھانے اور پینے میں پھر بھی وہ کوئی تبدیلی نہ کرے تو یہ اسراف ہوگا۔پس اصل یہ ہے کہ جب کوئی زمانہ ایسا آئے کہ مقابل پر دوسری ضروریات بڑھ جائیں تو اس وقت پہلی جائز چیزیں بھی اسراف میں داخل ہو جائیں گی۔اسلام ہر وقت ایک قسم کی قربانی کا مطالبہ نہیں کرتا اگر ایسا ہوتا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک خاص جنگ کے وقت اپنا سارا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنا آدھا مال پیش نہ کرتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بیسیوں جنگیں ہوئیں مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا آدھا مال نہیں دیا۔ایک جنگ کے موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خیال آیا کہ آج زیادہ قربانی کا موقع ہے میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بڑھ جاؤں گا اور اس خیال سے وہ اپنا آدھا مال لے کر گئے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے قبل حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آدھا مال بھی بھی نہ دیا تھا وگر نہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خیال کس طرح آ سکتا تھا کہ اپنا آدھا مال دے کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بڑھ جاؤں گا لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ موقع کی نزاکت کو دیکھ کر اپنا سارا مال دینے کا فیصلہ کر چکے تھے۔چنانچہ جب وہ اپنا سارا مال لے کر گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو آپ کے داماد تھے اور ان کے گھر کی حالت سے واقف تھے اسے دیکھتے ہی فرمانے لگے کہ آپ نے اپنے گھر میں کیا چھوڑا؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا خدا اور اس کے رسول ﷺ کا نام۔اسی وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑے فخر سے اپنا آدھا مال لے کر آ رہے تھے مگر جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ جواب سنا اور سمجھ لیا کہ میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔32