تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 31

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمود 23 نومبر 1934ء زمیندار میرے مخاطب نہیں ان کا لباس پہلے ہی سادہ اور ضرورت کے مطابق ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات ضرورت سے کم ہوتا ہے۔وہ صرف لنگوٹی باندھ لیتے ہیں یا اونچا تہ بند جس سے بدن کا کچھ حصہ نگا ر ہتا ہے اور اس میں اگر کسی اصلاح کی ضرورت ہے تو یہ کہ اسے بڑھایا جائے۔شہری لباس میں لوگ بہت غلطیاں کرتے ہیں اور اگر غلطی نہ ہو تو بھی ضرورت سے زیادہ لباس پر خرچ کرتے ہیں۔لباس کی غرض یہ ہے کہ عریانی نہ ہو اور زینت ہو لیکن عام طور پر لباس کے بعض حصے زینت سے نکل کر فخر اور فیشن کی طرف چلے گئے ہیں مدنظر فیشن ہوتا ہے گرمی سردی سے حفاظت یا محض زینت مدنظر نہیں ہوتی ، بہت سے لوگ ان اغراض کے لئے نہیں بلکہ دکھانے کے لئے کپڑے بناتے ہیں ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ کسی کو یہ دکھائیں کہ تمہارے جیسا کوٹ ہم نے بھی بنالیا ہے۔زیور کلیتہ زیبائش کے لئے ہے اس میں بھی اصلاح ہو سکتی ہے۔شادی بیاہ اور خوشی کے مواقع پر بھی اخراجات میں ایسی اصلاح ہو سکتی ہے کہ نئے ماحول کے ماتحت اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔تعلیم کے متعلق میری سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا ہو سکتا ہے۔یہ ایک ایسا سودا ہے کہ جس سے بہر حال قوم کو فائدہ پہنچتا ہے۔مدرسوں کی فیسیں، کالجوں اور بورڈنگوں کی فیسیں اور اوزاروں یا آلات کی قیمت بہر حال خرچ کرنی پڑتی ہے اور اس میں کوئی نقصان نہیں۔یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص زمین خرید لے۔ہاں طالب علموں کے کھانوں اور لباسوں میں اخراجات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ان باتوں کے بیان کرنے میں ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ اگر میں خالی نصیحت کروں تو ہر کوئی یہی کہے گا بہت اچھا! مگر عمل بہت کم لوگ کر سکیں گے اور اگر ضروری قرار دے دوں تو اس کا یہ نتیجہ ہو سکتا ہے کہ ایسی باتوں کو مستقل طور پر تمدن میں داخل کر دیا جائے۔بعض صوفیاء نے خاص حالات کے ماتحت بعض شرطیں لگا دیں مثلاً یہ کہ کفنی پہن لو اور زیبائش کو ترک کر دو مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد میں فتوحات بھی ہوئیں ، بادشاہتیں بھی مل گئیں، مگر وہ کفنی نہ گئی۔اسی طرح بعض نے خاص حالات کے ماتحت اچھے کھانے کھانے کی ممانعت کی مگر زمانے بدل گئے ، حالات میں تبدیلیاں ہو گئیں لیکن اس میں تبدیلی نہ ہوئی اور اب تک ایسے لوگ ہیں جو پلاؤ کھانے لگیں تو اس میں مٹی ڈال لیں گے۔تو ایک طرف مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کوئی بدعت نہ پیدا ہو جائے اور دوسری طرف صراحتا نظر آتا ہے کہ اس کے بغیر ہم ایسی قربانیاں نہیں کر سکتے جو سلسلہ کی ترقی کے لئے ضروری ہیں۔کھانے، پینے اور رہائش کے لئے اسلام نے تین اصول مقرر کئے ہیں۔پہلا یہ ہے کہ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ ن (الضحی :11) 31