تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 30

خطبہ جمعہ فرمود 23 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول جس طرز پر یہ علاج ہوتا ہے اس پر اڑھائی روپیہ سالانہ کی اوسط بھی رکھی جائے تو یہ خرچ پچاس ہزار ہو جاتا ہے۔میں نے اپنے گھروں میں دیکھا ہے کہ اوسطاً چھپیں روپیہ ماہوار دوائیوں کا خرچ پڑ جاتا ہے۔جس نئے طبیب سے مشورہ کیا اس نے دس بیس روپیہ کا نسخہ لکھ دیا۔اس طرح مختلف نسخہ جات پر پچیس روپیہ ماہوار خرچ ہو جاتا ہے علاوہ ان دوائیوں کے جو میں نے خود منگوا کر اپنے گھر میں گھر کے استعمال کے لئے یا غربا کے استعمال کے لئے رکھی ہوئی ہیں۔تو تماشوں کے خرچ کی طرح علاج کا خرچ بھی اتنا بار گراں ہے کہ یہ بھی ایک تماشا بنا ہوا ہے لیکن اگر ڈاکٹر یہ عہد کر لیں کہ وہ اپنے دماغ پر زور دے کر ایسے نسخے لکھیں گے جو سستے داموں تیار ہو سکیں اور قیمتی پیٹنٹ ادویہ استعمال کر کے نئی نئی دوائیوں کے تجربوں پر ملک کا روپیہ ضائع نہیں کرائیں گے تو یہ بار بہت حد تک ہلکا ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ سات مدات اور ہیں جن میں سے اول غذا ہے۔غذا میں کثرت اور تنوع اس قدر پایا جاتا ہے کہ اس پر بہت خرچ ہو جاتا ہے۔مسلمانوں میں تو کھانے کا اس قدر مرض ہے کہ جہاں بھی چند مسلمان جمع ہوں وہاں کھانے پینے کا ضرور ذکر ہوگا۔کوئی کہے گا یار فلاں چیز کھلاؤ، کوئی کہے گا یار میں تمہارے ہاں گیا تھا اور تم نے فلاں چیز نہیں کھلائی۔ایک غریب دوست نے ایک دفعہ ایک اور بھائی کی دعوت کی اور مجھے بھی اس دعوت میں بلایا اس دعوت میں پلاؤ نہ تھا۔جو صاحب مدعو تھے انہوں نے ہنس کر کہا کہ میری تو سمجھ میں بھی یہ بات نہیں آسکتی کہ پلاؤ کے بغیر بھی کوئی دعوت ہوسکتی ہے؟ آسودہ حال لوگوں میں تو تنوع بہت ہی زیادہ پایا جاتا ہے اور میرے زیادہ تر مخاطب آسودہ حال لوگ ہی ہیں غربا کو تو روکھی سوکھی روٹی بمشکل ملتی ہے۔کھانے سے متعلق دیہاتیوں کی ذہنیت کا پتہ اس سے لگ سکتا ہے کہ کسی شخص نے کہا کہ ملکہ معظمہ کیا کھاتی ہوں گی تو دوسرے نے کہا کہ ان کا کیا کہنا ہے گڑ کی بھیلی اٹھائی اور کھالی! اپس میں یہ باتیں ان لوگوں کے لئے کہ رہا ہوں اور ان سے ہی قربانی کا مطالبہ کرتا ہوں جو آسودہ حال ہیں اور ایک سے زیادہ کھانے جن کے گھروں میں پکتے ہیں ورنہ غربا کی قربانی تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہو چکی ہے۔وہ کبھی روکھی سوکھی روٹی کھا لیتے ہیں، کبھی شکر یا گڑ سے، کبھی پیاز سے اور کبھی چٹنی سے اس لئے میرے مخاطب وہ نہیں بلکہ وہ ہیں جن کے گھروں میں اچھے اچھے کھانے پکتے ہیں اور جو کثرت سے کھاتے ہیں یا جن کے کھانوں میں تنوع پایا جاتا ہے۔ایسے لوگ مالی یا جانی کسی قسم کی قربانی نہیں کر سکتے جب تک اپنے حالات میں تبدیلی نہ کریں انہیں اگر سفر پر جانا پڑے تو شکایت کرتے ہیں کہ کھانا اچھا نہیں ملتا، دودھ نہیں ملتا ، مکھن اور ٹوسٹ نہیں ملتے کیونکہ وہ اچھے اچھے کھانے کھانے کے عادی ہوتے ہیں اور تکلیف نہیں اٹھا سکتے۔اسی طرح لباس میں بھی 30