تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 27

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 23 نومبر 1934ء نے ایسا فضل کیا کہ جنگ فتح ہو گئی اور ان کے بچے بھی زندہ واپس آگئے۔اسی طرح ہندہ کی مثال ہے اس نے اور اُس کے خاوند ابوسفیان نے ہیں سال تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی اور فتح مکہ پر مسلمان ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلے وہ اس قدر شدید بغض رکھتی تھی کہ جنگ اُحد میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اس نے ان کے ناک اور کان کٹوائے تھے اور بعض روایات میں ہے کہ ان کا کلیجہ نکال کر چبایا تھا۔اُحد کی جنگ میں جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے اس جنگ میں مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا اور اس طرح مسلمان شہداء کی لاشیں کفار کے رحم و کرم پر تھیں اس وقت ہندہ نے اس وجہ سے کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے ایک خاص آدمی کو مارا تھا ان کی لاش کا مثلہ کروایا تو وہ ایسی خطرناک دشمن تھیں مگر فتح مکہ کے بعد وہ اور ان کے خاوند ابوسفیان بھی ایمان لے آئے اور ان کے لڑکے حضرت معاویہ بھی، ایک جنگ کے موقع پر ہرقل کی فوجوں کے ساتھ سخت معرکہ درپیش تھا مسلمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ساٹھ ہزار تھی اور دشمن کی دس لاکھ بھی بعض نے لکھی ہے اور تین چار لاکھ تو مسیحی مؤرخین نے بھی بیان کی ہے، گویا ان کی تعداد مسلمانوں سے کم سے کم پانچ چھ گنا تھی ، ایک دفعہ دشمن کی طرف سے ایسا سخت ریلہ ہوا کہ مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا، ہندہ نے جو اپنے خیمہ میں تھیں جب غبار اٹھتا دیکھا تو کسی سے پوچھا کہ یہ کیسا غبار ہے؟ اس نے بتایا کہ مسلمانوں کو شکست ہو گئی ہے اور وہ پسپا ہور ہے ہیں۔ہندہ نے عورتوں سے کہا کہ اگر مردوں نے شکست کھائی ہے اور اسلام کے نام کو بٹہ لگایا ہے تو آؤ ہم مقابلہ کریں۔عورتوں نے ان سے دریافت کیا کہ ہم کس طرح مقابلہ کر سکتی ہیں؟ انہوں نے کہا ہم مسلمانوں کے گھوڑوں کو ڈنڈے ماریں گی اور کہیں گی کہ تم نے پیٹھ دکھائی ہے تو اب ہم آگے جاتیں ہیں۔اس وقت ابوسفیان اور دوسرے صحابہ واپس آرہے تھے کیونکہ ریلہ بہت سخت تھا انہیں دیکھ کر ہندہ آگے آئیں اور ان کے گھوڑوں کو ڈنڈے مارنے شروع کئے اور ابوسفیان سے کہا کہ تم تو کفر کی حالت میں بھی اپنی بہادری کی بہت شیخیاں مارا کرتے تھے مگر اب مسلمان ہو کر اس قدر بزدلی دکھا رہے ہو۔حالانکہ اسلام میں تو شہادت کی موت زندگی ہے؟ اس پر ابوسفیان نے مسلمانوں سے کہا کہ واپس چلو ہندہ کے ڈنڈے دشمن کی تلوار سے زیادہ سخت ہیں۔چنانچہ مسلمانوں نے پھر حملہ کیا اور خدا تعالیٰ نے ان کو فتح دی۔تو مسلمان عورتوں کی زندگیوں میں قربانی کے ایسے شاندار نمونے ملتے ہیں جن سے بڑھ کر نمونہ پیش نہیں کیا جا سکتا اسی طرح مردوں نے بھی بہت زیادہ قربانیاں کی ہیں۔اُحد کی جنگ میں بہت سے مسلمان شہید ہو گئے تھے۔ایک زخمی صحابی کا قول کتنا پیارا اور و 27