تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 28

خطبہ جمعہ فرموده 23 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول دردناک ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ قربانی کے کیا معنی ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ ہو گئے اور کفار بھاگ گئے تو مسلمانوں نے لاشوں کا معائنہ کیا کہ دیکھیں کون کون شہید ہوا ہے؟ ایک انصاری اپنے کسی رشتہ دار کی تلاش میں تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک صحابی زخمی پڑے ہیں اور ان کی ٹانگیں کٹی ہوئی ہیں وہ اس کے پاس پہنچے اور کہا بھائی تمہاری حالت خطر ناک ہے اپنے متعلقین کو پیغام دینا ہو تو دے دو۔انہوں نے کہا ہاں میں منتظر ہی تھا کہ کوئی اس طرف آئے تو میں اسے پیغام دوں۔میرا رشتہ داروں کو یہ پیغام ہے کہ اے عزیز و ! ہم نے جب تک زندہ تھے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ، جو ہمارے پاس خدا تعالیٰ کی ایک امانت ہیں، اپنی جانوں سے حفاظت کی اب ہم جاتے ہیں اور یہ امانت تمہارے سپرد ہے تمہارا فرض ہے کہ اپنے مال و جان سے اس کی حفاظت کرو۔اس کے سوا نہ کسی کو سلام دیا نہ کوئی پیغام بلکہ یہی کہا کہ میرے رشتہ داروں سے کہنا کہ جس رستہ سے میں آیا ہوں اسی سے تم بھی آؤ۔تو یہ قربانیاں ہیں جو صحابہ کرام نے کیں مگر ان کے باوجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اے دوستو ! ان قربانیوں کو کچھ نہ سمجھو تم سے پہلے کچھ لوگ گزرے ہیں جن کو آروں سے چیرا گیا اور جن کو آگ میں جلایا گیا محض اس وجہ سے کہ وہ خدا پر کیوں ایمان لائے؟ تمہاری قربانیاں ان کے مقابلہ میں کچھ حقیقت نہیں رکھتیں۔اصل بات یہ ہے کہ قربانی کرنا مشکل نہیں ایمان لانا مشکل ہے جس کے دل میں ایمان پیدا ہو جائے اس کے لئے کوئی بھی قربانی مشکل نہیں ہوتی اور میں اُمید کرتا ہوں کہ جن مردوں کے دلوں میں ایمان ہے وہ عورتوں کی اور جن عورتوں کے دلوں میں ایمان ہے وہ مردوں کی اور جن بچوں کے دلوں میں ایمان ہے وہ اپنے ماں باپ کی مدد کریں گے اور آئندہ قربانیوں کے بارہ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔قربانیوں کے لئے نیا ماحول پیدا کرنے کے لئے میں جو باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں ان میں سے میں پہلے علاج کو لیتا ہوں۔شریعت کا حکم ہے کہ بیمار کا علاج کرانا چاہئے اس لئے میں یہ تو نہیں کہتا کہ علاج کرا نا بند کر دیا جائے مگر اس سلسلہ میں ڈاکٹروں سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔آج کل ڈاکٹروں میں عام مرض ہے کہ وہ کبھی خیال نہیں کرتے کہ جو دوائی وہ لکھ رہے ہیں اس کی قیمت اور فائدہ میں نسبت کیا ہے؟ ایک اشتہار ان کے پاس آتا ہے کہ فلاں دوائی کلیجی کے خون سے تیار کے گئی ہے اور جگر کے لئے بہت مفید ہے اور وہ محض تجربہ کے لئے کسی مریض کو لکھ دیں گے۔حالانکہ اس کی قیمت دس بارہ روپے 28