تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 26
خطبہ جمعہ فرموده 23 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر گئے اور ان کے بھانجے کو بھی ساتھ لے گئے اور اس طرح اجازت مانگی کہ کیا ہم اندر آجائیں؟ اور اسے سکھا دیا کہ جا کر اپنی خالہ سے لپٹ جانا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی اور کہا آجاؤ وہ اندر داخل ہو گئے اور ان کے ساتھ ہی وہ بھانجا بھی چلا گیا اور جا کر خالہ سے لپٹ گیا۔معافی مانگی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے معاف کر دیا مگر فرمایا میں نے غلاموں کی آزادی کا وعدہ کیا تھا اور کوئی حد نہ مقرر کی تھی اب مجھے ساری عمر ہی غلام آزاد کرنے پڑیں گے۔چنانچہ آپ ساری عمر خرید خرید کر غلاموں کو آزاد کرتی رہیں کیونکہ آپ رضی اللہ عنہا کو یہ شک رہا کہ شاید میرا عہد پورا ہوا یا نہیں۔ماں کے لئے سب سے بڑی قربانی بچے کی ہوتی ہے مگر میں اس کے لئے بھی ایک عورت کی مثال پیش کرتا ہوں جو پہلے شدید کا فر تھی۔ایرانیوں کے ساتھ ایک جنگ میں مسلمانوں کو سخت شکست ہوئی۔وہ اس کا ازالہ کرنے کے لئے پھر جمع ہوئے مگر پھر بھی ایرانی بوجہ کثرت تعداد اور فراوانی اسباب کے غالب ہوتے نظر آرہے تھے۔ہاتھیوں کے ریلے کا مقابلہ بھی ان سے مشکل سے ہوتا تھا۔چنانچہ آخری دن کی جنگ میں بہت سے صحابہ مارے گئے تھے۔آخر مسلمانوں نے مشورہ کیا کہ اگلے روز آخری اور فیصلہ کن جنگ کی جائے۔خنساء نامی ایک عورت جو بڑی شاعرہ اور ادیب گزری ہے، ان کے چار بیٹے تھے انہوں نے اپنے چاروں بیٹوں کو بلایا اور کہا: میرے بچو! میرے تم پر بہت سے حقوق ہیں۔تمہارا باپ جواری تھا میں نے چار دفعہ اپنے بھائی سے جائیداد تقسیم کرا کر اسے دی مگر اس نے چاروں دفعہ جوئے میں برباد کردی۔گویا نہ صرف یہ کہ اس کی اپنی جائیداد کوئی نہ تھی بلکہ اس نے میرے بھائی کی جائیداد کو بھی لٹا دیا مگر اس کے باوجود اس کی موت کے بعد میں نے اپنی عصمت کی حفاظت کی اور اس کے خاندان کو بٹہ نہیں لگایا اور بڑی محنت سے تمہاری پرورش کی۔آج اس حق کو یاد کرا کر میں تم سے مطالبہ کرتی ہوں کہ یا تو تم جنگ میں فتح حاصل کر کے آنا اور یا مارے جانا۔نا کامی کی حالت میں مجھے واپس آ کر منہ نہ دکھانا وگرنہ میں تمہیں اپنا یہ حق نہ بخشوں گی۔اس جنگ کی تفاصیل ایسی ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ہر مسلمان اپنی جان کو میدان جنگ میں اس طرح پھینک رہا تھا جس طرح کھیل کے میدان میں فٹ بال پھینکا جاتا ہے۔عین دو پہر کے وقت جب معرکہ جنگ نہایت شدت سے ہو رہا تھا ، خنساء آئیں، انہوں نے دیکھا کہ اس معرکہ سے بہادروں کا واپس آنا مشکل ہے۔انہوں نے اس وقت ہاتھ اُٹھا کر دعا کی کہ اے خدا! میں نے اپنے بچے دین کے لئے قربان کر دیئے ہیں اب تو ہی ان کی حفاظت کرنے والا ہے۔خدا تعالیٰ 26