تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 358
اقتباس از تقریر فرموده 27 دسمبر 1936ء لوگوں کو کچھ نفع بھی دیا جا سکے۔تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول پس ان تمام فوائد کے ساتھ اگر یہ روپیہ جماعت کی اقتصادی حالت کو مضبوط بنا دے تو کتنی بڑی فائدہ کی بات ہے۔جماعت کے دوستوں کا روپیہ بھی محفوظ رہے گا اور اقتصادی ترقی بھی ہوتی چلی جائے گی۔میں نے جو سکیم میں سوچی ہوئی ہیں اُن کے ماتحت اگر کسی وقت پانچ چھ لاکھ روپیہ تک امانت فنڈ پہنچ جائے تو ہم بغیر کسی بوجھ کے خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ تمام کام کر سکتے ہیں جو حکومتیں کیا کرتی ہیں اور جنہیں یورپ کی حکومتیں تو کرتی ہیں مگر ہندوستان کی حکومت نہیں کرتی۔غرض یہ تحریک ایسی اہم ہے کہ میں تو جب بھی تحریک جدید کے مطالبات پر غور کرتا ہوں اُن میں سے امانت فنڈ کی تحریک پر میں خود حیران ہو جایا کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ امانت فنڈ کی تحریک الہامی تحریک ہے کیونکہ بغیر کسی بوجھ اور غیر معمولی چندہ کے اس فنڈ سے ایسے ایسے اہم کام ہوئے ہیں کہ جاننے والے جانتے ہیں وہ انسان کی عقل کو حیرت میں ڈال دینے والے ہیں۔“ ( مطبوع الفضل 13 جنوری 1937 ء ) 358