تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 357

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 27 دسمبر 1936ء گوامانت پر نفع نہیں ہوتا لیکن اگر امانت رکھنے والا نفع دے دے تو یہ جائز ہوتا ہے۔غرض امانت فنڈ کا استعمال ایسا مبارک اور ایسا اعلیٰ درجہ کا ثابت ہوا ہے کہ میں سمجھتا ہوں اگر دس بارہ سال تک ہماری جماعت کے دوست اپنے نفسوں پر زور ڈال کر امانت فنڈ میں روپیہ جمع کراتے رہیں اور اس دوران میں جس کو ضرورت ہو وہ روپیہ لیتا ہے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان اور اس کے گردو نواح میں ہماری جماعت کی مخالفت پچانوے فیصدی کم ہو جائے اور صرف پانچ یا سات فیصدی رہ جائے۔یوں بھی انسان اپنی ضروریات کے لئے گھر میں روپیہ جمع کیا ہی کرتا ہے بلکہ جمع کرنا ضروری ہوتا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل جب جموں میں ملازم تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک خط میں انہیں لکھا کہ آپ کو اپنی آمد کا چوتھا حصہ جمع کرنا چاہئے اس سے کم نہیں۔ہاں اگر زیادہ جمع کر سکیں تو یہ اور بھی زیادہ بہتر ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے روپیہ جمع کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی وجہ آپ نے یہی لکھی کہ آپ اپناروپیہ چونکہ دینی ضروریات پر خرچ کرتے ہیں اور ممکن ہے کل کوئی زیادہ اہم دینی معاملہ پیدا ہو جائے جس کے لئے روپیہ کی فوری ضرورت ہو اس لئے بہتر ہے کہ ابھی سے روپیہ جمع کرنا شروع کر دیں تا زیادہ ثواب کا موقع آنے پر آپ کو یہ رنج نہ ہو کہ کاش میرے پاس روپیہ ہوتا اور میں اسے دین کے لئے دے سکتا تو دینی ضرورتوں کے لئے اور اس لئے کہ انسان مسرف نہ بنے۔روپیہ جمع کرنا نا جائز نہیں بلکہ جائز ہے اور یہ جمع کرنا تو ایسا ہی ہے جیسے کہتے ہیں ” آم کے آم گٹھلیوں کے دام“۔امانت فنڈ میں روپیہ جمع کرنے والوں کو دام بھی مل جائیں گے اور جو گٹھلی ہوگی وہ خدا تعالیٰ کے سلسلہ کے کام آجائے گی۔پس یہ ایک نہایت ہی اہم چیز ہے جس کی طرف جماعت کو خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے۔میں نے کہا تھا کہ جو لوگ اس مد میں روپیہ جمع کرنا چاہیں وہ ایک روپیہ سے کم رقم جمع نہ کریں اور جو ایک روپیہ بھی نہ دے سکیں وہ چند آدمی مل کر جمع کرائیں تا کہ ہر جماعت اس ثواب میں شامل ہو جائے۔میں سمجھتا ہوں جوں جوں ہماری جماعت ترقی کرتی جائے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دس بارہ لاکھ روپیہ سالانہ امانت فنڈ میں جمع ہو سکتا ہے اور ہم اس روپیہ کے ذریعہ جماعت کی اقتصادی ترقی کے لئے وہ تمام کام کر سکتے ہیں جو حکومتیں کیا کرتی ہیں۔آخر حکومت تو ہمارے پاس ہے نہیں کہ ہم اپنی جماعت کی اصلاح اور ترقی کے لئے وہ ذرائع اختیار کرسکیں جو حکومتیں اختیار کیا کرتی ہیں لیکن اگر امانت فنڈ میں کافی ردو پہیہ آنے لگ جائے تو ایسے تمام ذرائع اختیار کئے جاسکتے ہیں اور ممکن ہے علاوہ اصل روپیہ کی واپسی کے 357