تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 359
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 10 اپریل 1936ء خدمت دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں تقریر فرمود: 10 اپریل 1936 ، بر موقع مجلس شوری تیسری بات یہ ہے کہ نو جوان خصوصاً اور دوسرے لوگ عموماً اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کریں اور غیر ممالک میں جا کر تبلیغ کریں۔اس وقت تک کئی نوجوان جاچکے ہیں اور کئی جانے والے ہیں۔سٹریٹ سیٹلمنٹ میں جو مبلغ گیا ہے وہ مدرسہ احمدیہ کا ایک مولوی فاضل ہے پہلے اس کے متعلق مجھ پر اثر تھا کہ اس نے چستی سے کام نہیں کیا مگر اب معلوم ہوا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ اچھا اثر پیدا کر رہا ہے اور اپنے لئے مفید ماحول تیار کر رہا تھا ہم اسے کوئی خرچ نہیں دیتے وہ پھیری کر کے کماتا ہے اور تبلیغ کرتا ہے۔اور بھی کئی نوجوان جا رہے ہیں، چین میں ایک مبلغ جاچکا ہے اور دوسرا جانے کے لئے تیار ہے، آسام کو جانے کے لئے ایک نو جوان تیار ہے، پین جاچکا ہے، ساؤتھ افریقہ جاچکا ہے، ہنگری جاچکا ہے، البانیہ جانے کے لئے تیار ہے ( اس عرصہ میں جاچکا ہے )۔یہ سب زندگی وقف کنندگان ہیں ان کے علاوہ آٹھ دس نو جوان اپنے طور پر مختلف علاقوں کو روانہ ہو چکے ہیں ان میں سے بعض یہاں سے کلکتہ تک پیدل گئے ہیں اور پھیری کر کے اپنا زادراہ پیدا کرتے چلے گئے ہیں۔یہ شاندار کام جو انہوں نے کیا اور بھی کر سکتے ہیں اور جماعت کی ترقی میں محمد ہو سکتے ہیں۔بے شک ہمیں دین کے لئے روپیہ کی ضرورت پیش آتی ہے اور پیش آتی رہے گی لیکن جہاں تک تبلیغ کا کام ہے وہ روپیہ سے نہیں چل سکتا بلکہ قربانی اور ایثار سے چل سکتا ہے اس کے لئے نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں اور اس میں جماعت اس طرح تعاون کرے کہ ہر جگہ بااثر لوگ اپنی اپنی جماعتوں میں اس پر تقریریں کریں اور نو جوانوں میں تحریک کریں کہ وہ اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کریں۔میں نے ایک خطبہ میں بیان کیا تھا کہ ایک لڑکا میرا خطبہ سن کر افغانستان چلا گیا جہاں اسے قید میں ڈال دیا گیا اور وہ قید خانے کے افسروں کو تبلیغ کرنے لگ گیا جن میں سے بعض احمدیت کے قریب آگئے۔اس پر علما نے فتوی دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے لیکن حکومت نے کہا یہ انگریزی رعایا ہے اس کے قتل کرنے سے کوئی الجھن نہ پیدا ہو جائے۔آخر اسے افغانستان سے نکال دیا گیا، وہ یہاں آ گیا اب پھر وہ کسی اور ملک کے لئے چلا گیا ہے اسی طرح 359