تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 356

اقتباس از تقریر فرموده 27 دسمبر 1936ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول م میں سے ایک نوجوان نے بے وقوفی سے یہ بات کہی ہے ہم اس کے اس قول سے بیزار ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انصار ! یہ بات دو طرح کہی جاسکتی تھی تم کہہ سکتے تھے کہ حمد صلی اللہ علیہ وسلم اکیلا تھا، ملکہ کے لوگ اس کے دشمن تھے، اس کی قوم اس کی مخالف تھی ، انہوں نے مل کر اسے اپنے وطن سے نکالا اور جب لوگوں میں سے کوئی اس کا مددگار نہ رہا تو مدینہ والے آئے اور انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جگہ دی ، اپنے مال اس کی خاطر لگائے اور اپنی جانیں اس کے اشارہ پر قربان کر کے اُسے مکہ فتح کر کے واپس دلایا مگر جب مکہ فتح ہو گیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مال تو اپنے وطن والوں کو دے دیا مگر انصار کو کچھ صلى الله نہ دیا۔انصار پھر رو پڑے اور انہوں نے کہا: یارسول اللہ ! ہم نہیں کہتے ، ہم میں سے ایک بے وقوف نوجوان نے یہ بات کہی ہے۔آپ ﷺ نے پھر فرمایا: اے انصار! لیکن اگر تم چاہتے تو ایک اور رنگ میں بھی یہ بات کہہ سکتے تھے تم کہہ سکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے بڑے رسول سید ولد آدم کو مکہ میں پیدا کیا مگر جب اُس نے مکہ والوں کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کیا تو انہوں نے انکار کیا تب اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں میں رہنے نہ دیا بلکہ مدینہ میں اُسے جگہ دی پھر خدا تعالیٰ نے فرشتوں کی مدد سے نہ کہ انسانوں کی امداد سے مکہ اس کے لئے فتح کیا لیکن جب مکہ فتح ہو گیا اور مکہ کے رہنے والے یہ امید کرنے لگے کہ شاید اب ہماری امانت ہمیں واپس مل جائے گی اور خُدا کا رسول پھر ہمارے شہر میں جو اس کا وطن ہے رہنے لگ جائے گا تو خدا تعالیٰ نے اُن کی اس خواہش کو رد کر دیا اور مکہ والے تو اونٹوں اور بھیڑوں اور بکریوں کے گلے ہانک کر اپنے گھروں کو لے گئے مگر مدینہ والے خُدا کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروں کو لے آئے۔آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہتے تو یہ بھی کہہ سکتے تھے۔اس امانت فنڈ کا بھی یہی حال ہے اور اس کے بھی دو نقطہ نگاہ ہیں: ایک نقطہ نگاہ وہ ہے جو احراری پیش کرتے ہیں کہ چونکہ نذریں آنی بند ہو گئی ہیں اس لئے اب امانت کے نام سے روپیہ مانگنا شروع کر دیا ہے۔مگر دوسرا نقطہ نگاہ وہ ہے جو ہمارے دوست جانتے ہیں اور جن کو حالات کا بخوبی علم ہے وہ جانتے ہیں کہ امانت فنڈ کے ذریعہ احرار کو خطر ناک شکست ہوئی ہے اتنی خطر ناک شکست کہ میں سمجھتا ہوں اُن کی شکست میں کم سے کم پچیس فیصد حصہ امانت فنڈ کا ہے لیکن باوجود اس قدر فائدہ حاصل ہونے کے دوستوں کا تمام روپیہ محفوظ ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ دوستوں کو اس روپیہ پر کچھ نہ کچھ نفع ہی مل جائے گا 356