تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 339
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 4 دسمبر 1936ء تحریک جدید پر عمل شروع کرد و تو۔۔۔۔ضرور بادشاہت مل جائے گی خطبہ جمعہ فرمودہ 4 دسمبر 1936 ء میں نے سب سے پہلے سال تحریک جدید کا اعلان کرتے ہوئے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ ایک تو وہ آپس میں صلح کریں، لڑائی جھگڑوں کو چھوڑ دیں اور ایک دوسرے کے ایسے قصور جو ذاتی ہوں اور ایسے جھگڑے جو دینی نہ ہوں ان کو بھلا دیں اور دوسرے اپنے بقائے ادا کرنے کی طرف توجہ کریں کیونکہ جو پچھلا بقایا ادا نہیں کرتا وہ آئندہ کے لئے کس طرح وعدہ کر سکتا ہے؟ " اس کے بعد میں نے جو دوسری بات کہی تھی کہ جب تک ایک شخص بقائے ادا نہ کرے تحریک جدید اُسے کوئی نفع نہیں دے سکتی اس کی طرف پھر توجہ دلاتا ہوں۔دراصل جو شخص اپنے پہلے حقوق ادانہ کرتے ہوئے مزید وعدے کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے غضب کو اپنے اوپر بھڑ کا تا ہے اور دنیا کو خوش کرنے کی کوشش کرتا ہوا خدا کو ناراض کر لیتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کو کیا معلوم ہے کہ میں نے اپنا پچھلا وعدہ پورا نہیں کیا؟ لوگ تو خوش ہو جائیں گے کہ فلاں نے اتنا وعدہ کیا ہے مگر اللہ تعالیٰ تو اس دھوکہ بازی کو خوب جانتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ اس شخص نے پہلے بھی دھوکہ کیا تھا اور اب پھر کرتا ہے اس لئے دوستوں کو چاہئے کہ اپنے فرض چندوں کے بقایوں کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ کریں اور اگر ادا نہیں کر سکتے تو دل میں ان کو ادا کرنے کا پختہ اقرار تو کر لیں اور کوئی ایسا طریق مقرر کر لیں جس سے ادا کر سکیں۔مثلاً کوئی قسط مقرر کر لیں اور اس کے بعد تحریک جدید کی طرف توجہ کریں ورنہ تحریک جدید کا وعدہ ان کی ترقی کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہوگا۔اگر دوست یہ دونوں باتیں کریں یعنی مومن اور مخلص لوگ دلوں سے بغض نکال کر باہم محبت پیدا کریں اور بقائے ادا کریں اور پھر تحریک جدید میں حصہ لے سکیں تو لیں بلکہ اگر توفیق ہو تو تحریک جدید میں حصہ لینا بھی ضروری سمجھیں تو پھر ترقیات کے دروازے ان پر کھل سکتے ہیں۔تحریک جدید میں حصہ لینا اگر چہ میں نے اختیاری رکھا ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ اس میں حصہ لینے سے کو تا ہی کی جاسکتی ہے۔یہ تحریک اختیاری تو میں نے اس لئے رکھی ہے کہ انسان کو زیادہ ثواب انہی تحریکوں میں حصہ لینے سے ہوتا ہے جو خود اختیاری ہوں۔۔۔339