تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 305

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبه جمعه فرموده 7 اگست 1936 ء جانتے کہ میں آدمیوں کو نہیں دیکھ رہا بلکہ میں خدا کو دیکھ رہا ہوں، میں ایسا بے وقوف نہیں کہ مجھوں اس کا وقت جولوگ میرے سامنے بیٹھے ہیں ان کے ذریعہ میں دنیا کو فتح کر سکتا ہوں یا جماعت میں اس وقت جتنے آدمی شامل ہیں ان کے ذریعہ ساری دنیا فتح کی جاسکتی ہے۔پچاس ہزار یا لا کھ دولاکھ آدمی ساری دنیا کے مقابلہ میں کیا کر سکتے ہیں؟ پھر مال کے لحاظ سے انہیں دیکھو تو اُن کے پاس مال کہاں ہے؟ طاقت کے لحاظ سے انہیں دیکھو تو اُن کے پاس طاقت کہاں ہے؟ پس میں دنیا کی فتح کا آدمیوں کے ذریعہ اندازہ نہیں کرتا۔آدمی میر ا ساتھ نہیں دے سکتے بلکہ ایمان اور اخلاص میرا ساتھ دے سکتا ہے اور جب کسی انسان کے ساتھ ایمان اور اخلاص شامل ہو جائے تو ساری دنیا کے خزانے مل کر بھی اُس کے مقابلے میں بیچ ہو جاتے ہیں۔آج میں خصوصیت کے ساتھ اسی مسئلہ کو بیان کرنے کے لئے آیا ہوں کہ جماعت کو توجہ دلاؤں کہ اُس مقام کو حاصل کئے بغیر جس میں انسان فنافی اللہ ہو جاتا ہے کسی قسم کی کامیابی اور ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔آج سے قریباً پونے دو سال پہلے جب میں نے تحریک جدید کا اعلان کیا تھا جماعت میں ایک شور تھا، ایک غوغا تھا، ایک ہنگامہ تھا اور لوگ کہ رہے تھے ہم کو حکم دیجئے ہم اپنا سب کچھ احمدیت کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن آج جاؤ اور تحریک جدید کے لئے مالی وعدوں کو دیکھ لو، رجسٹر موجود ہیں ان سے معلوم کر لو، پرانے خطوط محفوظ ہیں انہیں نکال کر پڑھ لو، کئی قربانیوں کا شور مچانے والے ایسے نکلیں گے جنہیں کہا گیا تھا کہ اگر تم کوئی رقم ادا نہیں کر سکتے تو اس رقم کی ادائیگی کا وعدہ مت کرو کیونکہ یہ کوئی جبری چندہ نہیں مگر انہوں نے وعدہ کیا اور پھر اُسے پورا نہیں کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک واقعہ سنایا کرتے تھے فرماتے تھے حضرت ابو بکر کے ہاں یا حضرت عمرؓ کے ہاں، مجھے صحیح یاد نہیں ، چوری ہو گئی اور ان کا کچھ زیور پر ایا گیا، ان کا ایک نوکر تھا وہ شور مچاتا پھرے کہ ایسے کم بخت بھی دنیا میں موجود ہیں جو خدا تعالیٰ کے خلیفہ کے ہاں چوری کرتے ہوئے بھی نہیں شرماتے ، وہ چوری کرنے والے پر بے انتہا لعنتیں ڈالے اور کہے خدا اس کا پردہ فاش کرے اور اُسے ذلیل کرے۔آخر تحقیقات کرتے کرتے پتہ لگا کہ ایک یہودی کے ہاں وہ زیور گرور کھا ہوا ہے جب اس یہودی سے پوچھا گیا کہ یہ زیور کہاں سے تمہیں ملا تو اس نے اسی نوکر کا نام بتلایا جو شور مچاتا اور چور پرلعنتیں ڈالتا پھرتا تھا۔تو منہ سے لعنتیں ڈال دینا زبان سے فرمانبرداری کا دعوی کرنا کوئی چیز نہیں عمل اصل چیز ہوتی ہے ورنہ منہ سے اطاعت کا دعوی کرنے والا سب سے زیادہ منافق بھی ہو سکتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ لوگ جنہوں نے تحریک جدید میں وعدوہ کیا اور پھر اسے پورا نہیں کیا منافق ہیں مگر کئی تھے جنہوں نے پہلے سال وعدہ کیا اور پھر وعدہ پورا بھی کیا مگر دوسرے سال کی 305