تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 306
خطبه جمعه فرموده 7 اگست 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول تحریک میں آکر رہ گئے ایسے لوگ ایک سالہ مومن تھے ان کی دوڑ پہلے سال میں ہی ختم ہوگئی دوسرے سال کی دوڑ میں وہ شریک نہ ہو سکے یہی وجہ ہے کہ وہ پہلے سال شور مچاتے تھے کہ جو قربانی لینی ہے ابھی لے لو۔ایسے تمام لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ میں نے اسی لئے تحریک جدید کے متعلق تین سال کی شرط لگا دی تھی تا وہ جو پہلے یا دوسرے قدم پر تھک کر رہ جانے والے ہیں وہ پیچھے ہٹ جائیں اور خالص مومن باقی رہ جائیں۔ایمان اور اخلاص کے سانس بھی مختلف ہوتے ہیں جیسے کہتے ہیں فلاں اونٹنی دس میل دوڑ سکتی ہے، فلاں اونٹنی ہیں میل اور فلاں سو میل۔ایمان کی بھی دوڑیں ہوتی ہیں اور ایمان کی دوڑوں میں وہی جیتے ہیں جن کے لئے کوئی حد بندی نہ ہو۔ہمیں نہ یک سالہ مومن کام دے سکتے ہیں نہ دو سالہ مومن بلکہ وہی کام دے سکتے ہیں جو بغیر کسی شرط کے ہمیشہ قربانیوں کے لئے تیار رہنے والے ہوں۔اب انشاء اللہ تیسرے سال کی تحریک آنے والی ہے میں سمجھتا ہوں کہ کئی ہیں جو اس میں بھی رہ جائیں گے وہ دو سالے مومن ہوں گے جو تیسری تحریک کے وقت گر جائیں گے۔غرض کچھ لوگ اس سال گر گئے اور کچھ لوگ اگلے سال گر جائیں گے اور پھر کچھ سہ سالہ مومن ہوں گے جو تین سال قربانیوں پر صبر کر سکتے ہیں اس سے زیادہ ہیں۔یہ سب لوگ جھڑتے چلے جائیں گے اور گرتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ صرف وہ مومن رہ جائیں گے جو حیاتی مومن ہوں گے یعنی ساری زندگی ہی وہ خدا تعالیٰ کے لئے قربانیاں کرنے میں گزار دیں گے اور یہی وہ لوگ ہوں گے جن کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ اپنے دین کو فتح دے گا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے جب تک خبیث اور طیب میں فرق کر کے نہ دکھلا دیں۔اس زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ خبیث اور طیب میں ضرور فرق کر کے دکھلائے گا۔جو لوگ گھبرا رہے ہیں اور خیال کر رہے ہیں کہ اس ذریعہ سے میں جماعت کو چھوٹا کر رہا ہوں وہ نادان ہیں وہ جانتے ہی نہیں کہ جماعت ترقی کس طرح کرتی ہے؟ وہ سمجھتے ہی نہیں کہ جماعت کی مضبوطی اور کمزوری کا کیا معیار ہوا کرتا ہے؟ کیا ایک لمبی زنجیر جس کی بعض کڑیاں کمزور ہوں وہ مضبوط ہوتی ہے یا وہ چھوٹی زنجیر جس کی ساری کڑیاں مضبوط اور پائیدار ہوں؟ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ وہی زنجیر کام آسکتی ہے جس کی ساری کڑیاں مضبوط ہوں۔انگریزی میں ایک ضرب المثل ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ زنجیر کی طاقت سب سے کمزور کڑی میں ہوتی ہے یعنی سب سے کمزور کٹڑی جتنی طاقت کی ہوتی ہے اتنی ہی زنجیر کی طاقت ہوتی ہے اسی طرح افراد کے ایمان کی مضبوطی ہی ایسی چیز ہے جو ہمیں اپنے مقاصد میں کامیاب کر سکتی ہے خواہ جماعت کے افراد تھوڑے ہوں یا بہت، اسی لئے میں نے تحریک جدید کو لمبا پھیلایا ہے تا میں دیکھوں کہ کتنے مخلص ہیں جو اس دوڑ میں میرے 306